خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 466
خطبات طاہر جلد ۸ 466 خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۸۹ء میں لینی شروع کر دی ہے انہوں نے کہ جس کے متعلق کسی اور ملک میں مجھے ایسا تجربہ نہیں ہوا۔ہر تم کے صاحب حیثیت یا عامتہ الناس یعنی ہر قسم کے لوگ مسجد میں ہی دلچسپی نہیں لے رہے بلکہ جماعت احمدیہ کے پیغام میں دلچسپی لے رہے ہیں۔چنانچہ وہاں حکومت کی طرف سے جو نمائندے ہماری دیکھ بھال کے لئے مقرر ہوئے تھے اور وہ کافی با اثر لوگ تھے ان سب نے مجھ سے چلنے سے پہلے درخواست کی کہ ہمیں اسلام میں گہری دلچسپی پیدا ہوگئی ہے اس لئے آپ ہمیں ضرور وقت دیں تا کہ ہم کچھ سوال کر سکیں۔اس دلچسپی کی وجہ کیا تھی ؟ دلچسپی کی وجہ یہ تھی ہمارے ایک ساتھی نے ان سے پوچھا پہلے کے تم متاثر نظر آرہے ہو بتاؤ سب سے زیادہ تمہیں کس چیز نے متاثر کیا ہے۔تو ان کے جوافسر اعلیٰ تھے انہوں نے جواب دیا کہ سب سے زیادہ ہمیں آپ کی نماز نے متاثر کیا ہے، آپ کی عبادت نے متاثر کیا ہے اور ایسا گہرا اثر ہمارے دل پر ڈالا ہے انہوں نے خود بتایا کہ میری بیوی بڑی سخت کیتھولک ہے اور میں عام سا عیسائی ہوں خاص مجھے ایسی کوئی دلچسپی نہیں۔میری بیوی ہمیشہ مجھے آکر بنایا کرتی تھی کہ چرچ میں بعض دفعہ کوئی اچھا مقرر آتا ہے تو دل پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور ایک روحانی لذت ہے جس سے تم محروم ہو۔تو پہلی دفعہ جب میں نے آپ کی نمازیں دیکھیں تو میں نے بیوی کو کہا کہ تمہیں پتا ہی کچھ نہیں کہ روحانی لذت ہوتی کیا ہے؟ میں جو آج دیکھ کے آیا ہوں تمہارے خوابوں میں بھی یہ لذت نہیں آسکتی۔چنانچہ اس نے درخواست کی کہ میں مسلمان تو نہیں ہوں مگر مجھے نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ میں نے کہا سو بسم اللہ شوق سے تشریف لائیں اور اس نماز میں اس نے با قاعدہ ہمارے ساتھ اسی طرح اسی انداز سے جس طرح مسلمان نماز ادا کرتے ہیں نماز ادا کی اور دروازہ کھلا رکھا اس کمرے کا تا کہ دوسرے اس کے ساتھی افسران بھی دیکھیں اور وہی دیکھ کر دراصل ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا۔چنانچہ کافی دیر تک ان سے مجلس لگی رہی اور ان میں سے ہر ایک نے یہ کہا کہ ہم اسلام کی صداقت کے قائل ہو گئے ہیں اس میں کوئی شک نہیں رہا۔اب ہمیں اتنا وقت دیں کہ ہم اپنے بیوی بچوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیں تا کہ جب ہم آئیں تو ہمارے گھر میں پھوٹ نہ پڑے ہم اکٹھے مل کے آئیں۔تو وہ مساجد جو خدا کی خاطر بنائی جاتی ہیں اور وہ عبادت جو خدا کی خاطر ادا کی جاتی ہے اس میں ایک گہرا روحانی اثر ہوا کرتا ہے اور اگر کسی قوم میں روحانیت زندہ ہو تو سب سے زیادہ اس قوم کو