خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 465 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 465

خطبات طاہر جلد ۸ 465 خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۸۹ء لحاظ سے میرا یہ تاثر تھا کہ یہ لوگ تعصب دکھا ئیں گے اگر ایک مسلمان ملک میں مساجد پر پابندی ہو جائے تو لازمی بات ہے کہ جیسے کہتے ہیں دودھ کا جلا چھاج کو بھی پھونک پھونک کے پیتا ہے۔مجھے یہ ڈر تھا کہ کیتھولک ملک میں تو بہت ہی زیادہ تعصب دکھایا جائے گا لیکن میں حیران رہ گیا دیکھ کر کہ ہر منزل پر ہر قدم پر ان لوگوں نے اتنا تعاون کیا ہے۔حکومت نے بھی ، وہاں کے انجینئر ز نے بھی یہاں تک کہ وہاں کے معماروں اور مزدوروں نے بھی۔باوجود اس کے کہ غریب ملک ہے اور مزدور بہت ہی تھوڑی اجرت پاتے ہیں اور زائد وقت کام کریں تو ان کے مطالبے ہونے چاہئیں کہ ہمیں زائد پیسے دو لیکن چونکہ افتتاح کا وقت قریب آرہا تھا اور مسجد کا بہت سا کام ہونا باقی تھا اس لئے جب ان سے یہ درخواست کی گئی کہ دن رات کام کرو زیادہ محنت سے کام کرو تو اس طرح انہوں نے کام کیا ہے جس طرح جماعت بعض دفعہ وقار عمل مناتی ہے اس جذبے کے ساتھ انہوں نے کام کیا اور وہ سارے کیتھولک تھے اور حکومت نے ایسی گہری دلچسپی لی اور ایسا تعاون سے بڑھ کر کہنا چاہئے محبت کا اظہار کیا کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اتنا وسیع حوصلہ دنیا کی کوئی حکومت دکھا سکتی ہے۔مقامی طور پر وہاں ابھی ایک بھی احمدی نہیں لیکن وہاں کے پریزیڈنٹ صاحب نے میری ملاقات کے وقت بتایا کہ میری خواہش تھی کہ میں خود آکر اس تقریب میں شامل ہوں لیکن ایک انتہائی ضروری Executive کی میٹنگ تھی اس کی وجہ سے میں نہیں آسکا تو میں نے اپنے وائس پریزیڈنٹ کو بھجوایا۔اس وقت مجھے سمجھ آئی کہ وائس پریزیڈنٹ صاحب کیوں آئے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ جائیں اور اس میں شامل ہوں لیکن میری ذاتی خواہش تھی کہ میں آتا اور دوسرے بعض وزراء اس میں شامل ہوئے اور مقامی لوگ جن کو بھی دعوتیں دی گئیں تھیں بڑے بڑے ہر قسم کے وہ وہاں تشریف لائے اور اس تقریب کو بہت ہی انہوں نے رونق بخشی اور جماعت کی طرف سے جب مسجد کے متعلق اور اس کے مقاصد کے متعلق مختصر اذکر کیا گیا تو بہت ہی گہرا اثر انہوں نے قبول کیا بعد میں کچھ عرصہ بیٹھے بھی کچھ لوگ ان میں سے آکے اور بار بار اپنی محبت کا اور خوشی کا اظہار کرتے رہے۔اس لئے مجھے اس ملک سے بڑی توقع پیدا ہوئی ہے کہ چونکہ انہوں نے خدا کے گھر بنانے میں غیر معمولی تعاون کیا ہے اور محبت کا اظہار کیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اسلام کے لئے ان کے دل کھولے گا اور اس کے آثار بھی ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔اتنی جلدی، اتنی گہری دلچسپی اسلام