خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 467
خطبات طاہر جلد ۸ 467 خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۸۹ء اپنے مذہب کی طرف مائل کرنے کا یہی ذریعہ بنتا ہے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ گوئٹے مالا کی مسجد بھی چونکہ خالصہ للہ بنائی گئی تھی اس لئے وہاں نمازیوں کا انتظام خدا تعالیٰ نے خود فرما دیا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ جلد ہی وہاں وہ مسجد جواس لحاظ سے بہت بڑی ہے کہ صرف باہر سے آئے ہوئے دو پاکستانی احمدی وہاں ہیں۔ایک ہمارے مبلغ اور ایک وسیم صاحب جو کینیڈا سے گئے تھے اور مسجد کے کام میں انہوں نے بہت ہی محنت کی ہے۔اس کے باوجود مجھے امید ہے کہ جلد ہی انشاء اللہ وہ مسجد بھی نمازیوں سے بھر جائے گی اور چھوٹی ہو جائے گی۔یہ ایک آخری بات ہے جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اس کے بعد خطبے کو ختم کروں گا لیکن اس سے پہلے ایک اپیل بھی کروں گا۔مسجدیں ہم جتنی وسیع بنا ئیں اگر وہ تقویٰ پر مبنی ہوں اور اللہ کی خاطر بنائی جائیں تو ایک علامت اس کی ضرور ہم پوری ہوتے دیکھتے ہیں کہ وہ مسجد جلد جلد نمازیوں سے بھرنے لگتی ہے اور وہ مسجدیں جو دکھاوے کے لئے بنائی جائیں ان کو آپ دیکھیں گے کہ سالہا سال تک بنی رہتی ہیں اور خالی رہتی ہیں جس طرح ایک بڑے لفافے میں چھوٹی سی چیز ڈال کر اس کو کھنکایا جائے ویسی کیفیت ان کی دکھائی دیتی ہے۔تو یہ دوسرا قدم جو ہے یہ اٹھانے کی ہر جگہ ضرورت ہے مسجد میں بڑی بنا ئیں اس دعا کے ساتھ بڑی بنائیں کے خدا جلد بھر دے اور پھر خود عبادت کے لئے اس میں زیادہ آیا کریں ، اپنے بچوں کو ساتھ لایا کریں تا کہ جتنی آپ کی توفیق ہے اس حیثیت سے آپ اس مسجد کو ضرور رونق بخشنے کی کوشش کریں۔باقی کام خدا پر چھوڑمیں اور مجھے یقین ہے اب تک تو خدا کا ہمیشہ یہی طریق رہا ہے، ہم سے یہی سلوک رہا ہے کہ مسجد خواہ ہم کتنی بڑی بنا ئیں وہ دیکھتے دیکھتے چھوٹی ہو جاتی ہے۔پس خدا کرے کہ یہ مسجد بھی دیکھتے دیکھتے چھوٹی ہو جائے اور آج جیسا کہ مجھے دکھائی دے رہا ہے اللہ کے فضل سے اس وقت یہ مسجد بھری ہوئی ہے اور نمازی جو صف بندی کر کے کھڑے ہوں گے وہ انشاء اللہ اس پوری مسجد کو بھر دیں گے لیکن یہاں اس وقت باہر سے آئے ہوئے دوست موجود ہیں۔بڑی دور دور سے سفر کر کے بعض امریکن مخلصین جن کو خدا نے توفیق بخشی ہے آج اس تاریخی موقع میں جمعہ میں شامل ہونے کے لئے تشریف لائے ہیں۔مگر میں یہ چاہتا ہوں جماعت لاس اینجلیس