خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 417 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 417

خطبات طاہر جلد ۸ 417 خطبہ جمعہ ۶ ارجون ۱۹۸۹ء خطرہ ہے جس کی طرف سورہ نصر ہمیں توجہ دلاتی ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًان فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (انصر ۲۰-۴) کہ دیکھو ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب کہ قومیں وسیع تعداد میں اسلام میں داخل ہوں گی اور جب وہ داخل ہوں گی تو یا درکھنا کہ تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم ان کو اپنے وجود کا حصہ بناؤ۔اگر تم نے ان کو اپنے وجود کا حصہ نہ بنایا تو خطرات لاحق ہوں گے اور اس کے لئے ہم تمہیں تسبیح اور استغفار کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔تسبیح اور استغفار یہ دو باتیں ہیں جن کی طرف خصوصیت سے اس موقع پر توجہ دلائی گئی۔تسبیح میں انسان خدا تعالیٰ کو سب برائیوں سے پاک سمجھتا ہے اور حمد کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔ظاہر ہے فَسَبِّحْ بِحَمْدِرَتِكَ وَاسْتَغْفِرْهُ تیج کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کوسب برائیوں سے پاک قرار دیتا ہے۔قرار دینے کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ اگر وہ فتویٰ دے تو نعوذ باللہ خدا تعالیٰ پاک نہیں ہو گا۔مراد یہ ہے کہ اپنی نظر وسیع کرتا چلا جاتا ہے اور خدا کا عرفان بڑھاتا چلا جاتا ہے اور رفتہ رفتہ اس کی سوچ کا رُخ ہمیشہ اس طرف رہتا ہے کہ جوں جوں اس کا مطالعہ وسیع ہو وہ یہ دیکھتا چلا جاتا ہے کہ ہر دوسری چیز برائیوں والی ہے۔اس میں کوئی نہ کوئی برائی موجود ہے لیکن خدا کی ذات ہر برائی سے پاک ہے۔پس برائیوں کا شعور جہاں بڑھتا ہے وہاں خدا کے تقدس کا شعور بھی ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔دوسرا فرمایا بِحَمْدِ رَبَّك کہ اپنے رب کی حمد کا تصور بھی ساتھ باندھ لو۔جہاں تسبیح کا تصور باندھتے ہو وہاں یہ بھی سوچو کہ وہ ساری خوبیوں کا مالک ہے اور جتنی تمہاری نظر وسیع ہوتی چلی جائے گی۔ساری کائنات پر نظر ڈال کر دیکھ لو کوئی خوبی تمہیں ایسی دکھائی نہیں دے گی جس کا اصل منبع اور مرجع دونوں لحاظ سے خدا ہی ہے۔آغاز بھی وہی ہے اور انجام بھی وہی ہے۔یہ وہ دو چیزیں ہیں جن کو پیش نظر رکھتے ہوئے آنے والی قوموں کا استقبال کرو، یہ ہے تعلیم۔مطلب یہ ہے کہ جب تم اس بات کا پوری طرح شعور حاصل کر لو گے کہ خدا برائیوں سے پاک ہے اور تم خدا کی طرف بلا رہے ہو تو لازما تمہیں آنے والوں کو برائیوں سے پاک کرنا چاہئے اور اگر تم نے خود اپنے آپ کو برائیوں سے پاک نہیں کیا تو تم خدا کی طرف بلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ایک طرف یہ کہتے ہو کہ اے خدا تو ہر برائی سے پاک ہے اور ہم تیرے نام پر تیری طرف دنیا کو بلاتے ہیں۔دوسری طرف خود