خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 418
خطبات طاہر جلد ۸ 418 خطبہ جمعہ ۱۶ / جون ۱۹۸۹ء نہ اپنے وجود کو برائیوں سے پاک کر رہے ہو نہ آنے والوں کو برائیوں سے پاک کر رہے ہو تو تمہارا داعی الی اللہ بننے کا حق ہی نہیں رہتا۔پھر اگر تمہاری حالت وہی رہتی ہے اور تم اپنے اندر مزید خوبیاں پیدا نہیں کرتے اس خیال سے کہ جس سے دوستی باندھی ہے یعنی خدا کی ذات وہ تو تمام خوبیوں سے مرصع ہے اس لئے اگر اس کے قریب ہونا ہے تو کچھ اس جیسا بننے کی کوشش کرنی چاہئے اور جب اپنی ذات میں تم یہ شعور بیدار کر لو گے اور باشعور طور پر اس کی کوشش کرو گے تو ہر آنے والے کے لئے بھی تمہیں اسی پہلو سے فکر کرنا ہوگا، غور کرنا ہو گا اور اُن کو خوبیاں عطا کرنے کے لئے بھی ضرور کوشش کرنی ہوگی۔اس کے بعد فرمایا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ان باتوں کے باوجود تم سے کمزوریاں رہ جائیں گی کیونکہ یہ جو ہے یعنی یہ بنیادی دعویٰ کہ خدا کے سوا ہر شخص کمزور ہے، داغدار ہے، اور ہر چیز برائیوں والی ہے یہ تم پر بھی تو اطلاق پاتا ہے۔تمہاری کوئی کوشش بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہوسکتی۔اس لئے جب تمہاری کوششیں غلطیوں سے پاک نہیں ہوسکتیں تو ہو سکتا ہے اس کے بداثرات آنے والی قوموں پر مترتب ہوں۔پس ضروری ہے کہ تم خدا سے دعا اور استغفار کے ذریعے مدد مانگو اور اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرتے رہو کہ اے خدا! ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کر لی لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہم کمزور ہیں خود۔جب ہم نے اقرار کر لیا کہ تیرے سوا کوئی پاک نہیں تو ہم بھی تو پاک نہیں۔اس لئے ہماری کوششوں سے پا کی کسی کو عطا ہو جائے یہ ممکن نہیں ہے جب تک تیری مدد شامل حال نہ ہو۔پس استغفار کا مضمون اپنی غلطیوں سے بخشش مانگنا ہی نہیں بلکہ کمزوریوں کو ڈھانپنا ہے۔ہماری برائیاں چھپ جائیں اور دوسروں پر اثر انداز نہ ہوں اور اُن کو داغدار نہ کریں۔یہ وہ طریق ہے جس پر ہمیں مغرب میں زندہ رہنا ہے۔اگر ہم نے اس طریق کو اختیار نہ کیا تو دوسمندر جو یہ مل رہے ہیں انہوں نے قانون قدرت کے مطابق جو باتیں میں نے بیان کی ہیں اُن پر ضرور عمل پیرا ہونا ہے۔اگر آپ سرایت کرنے والے نہ بنیں تو یہ آپ میں سرایت کر جائیں گی۔اگر آپ نے ان کے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا نہ کی تو یہ لا ز ما آپ کو تبدیل کرلیں گے۔آج صبح ایک پریس انٹرویو میں مجھ سے یہی سوال کیا گیا تھا۔ایک پریس کے نمائندے نے کہا آپ جن قوموں میں آکے بسے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ اس کے کیا نتائج ہیں اور کیا کیا خدشات ہیں؟ کیا آپ اس طرح جماعت کو یہاں رہنے کی تلقین کریں گے کہ وہ اپنے اصولوں کا سودا کر لیں