خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 416 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 416

خطبات طاہر جلد ۸ 416 خطبہ جمعہ ۱۶/ جون ۱۹۸۹ء اسلامی تصورات کے مطابق ان کو ڈھالیں اور ان کی تربیت کریں اور پھر ان کا انہضام کریں۔یہ نظام ہمیں بعض دوسری قوموں میں بھی نظر آتا ہے جواب مزاجا اور عادتا اور روایہ یہ سلوک کرتی ہیں باہر سے آنے والے نظریات سے۔جاپان اُن میں سے ایک ہے۔جاپان میں جو بھی مذہب جائے یا جو بھی طرز زندگی جائے وہ اس کو پہلے جینا ئز (Japanize) کرتے ہیں اور پھر اس کو قبول کرتے ہیں۔آج وہاں عیسائیت کی جو شکلیں ملتی ہیں وہ بھی جپائیز ڈ (Japanized) عیسائیت کی شکلیں ملتی ہیں۔اس لئے بجائے اس کے کہ یہ لوگ اسلام کو ویسٹر نائیز (Westernize) کرلیں آپ کا فرض ہے کہ ان کی خوبیوں کو اپنائیں اور ان کو اسلامائیز (Islamize) کرلیں۔ان کے نظام میں جو اچھی چیزیں ہیں ان کو اپنے لئے ذریعہ حیات بنائیں، ذریعہ تقویت بنا ئیں۔وہ Selective ہوں، احتیاط کے ساتھ ، چناؤ کرتے ہوئے اُن کی اچھی باتوں کو اپنا ئیں اور ہضم کرنے سے پہلے اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھال کر اُن کو صاف ستھرا کر کے اپنے وجود کا پاکیزہ حصہ بناتے ہوئے ان کو ہضم کریں۔یہ وہ دوسرا پہلو ہے جس کی طرف مغربی ملکوں میں بسنے والی جماعتیں جو ہیں ان کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔جب ہم یہ مثالیں دیتے ہیں تو یہ مراد نہیں ہوا کرتی کہ ظاہری طور پر ہر مثال کا ہر پہلو صورتحال پر اطلاق پا جائے۔واقعہ مثالوں میں سے بعض حصے چسپاں ہوتے ہیں اور بعض حصے چسپاں نہیں ہوا کرتے۔اس لئے بعض دفعہ مضمون بدل بدل کر ایک چیز سمجھانی پڑتی ہے۔ایک دوسرا پہلو جس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب آپ اخلاقی قدروں کو نہیں صرف بلکہ ان کے افراد کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کریں گے تو اُس وقت بھی یہی اصول کارفرما ہونا چاہئے۔جب مغربی قوموں سے لوگ آپ کے اندر داخل ہوتے ہیں تو اُن کو Islamize کرنا بہت ضروری ہے۔اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو پھر یہ اپنے اثرات آپ کے اندر داخل کر کے آپ کو کھینچ کر اپنا وجود بنا لیں گے کیونکہ جب وسیع پیمانے پر اختلاط ہو گا تو لازماً یہ جد و جہد اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہے۔یا آپ ان کے ہو جائیں گے یا یہ آپ کے ہو جائیں گے۔بظاہر یہ مسلمان بھی ہو رہے ہوں گے لیکن اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ اس طرح مسلمان ہوں کہ ان کی ناقابل قبول قدروں کو آپ نے صاف اور ستھرانہ کیا ہو اور وہ قدریں آپ کے وجود میں داخل ہو جائیں اور اس وجود کا حصہ بن جائیں۔یہ وہ