خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 398
خطبات طاہر جلد ۸ 398 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء قابو آ گئے ہیں کھلم کھلا انہوں نے یہ کہ دیا، اعلان یہ کیا جماعت احمدیہ نہیں رہے گی اور اس اعلان کی مماثلت کے طور پر مجھے لیکھرام یاد آیا اور اُس کا بھی میں نے ذکر کیا کہ اس نے بھی اسی قسم کا ایک اعلان کیا تھا کہ حضرت مرزا صاحب تو جھوٹے نکلیں گے اور میں اس طرح سچا نکلوں گا کہ جس عرصے میں یہ کہتے ہیں کہ میں مٹنے والا ہوں جماعت احمد یہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔تو میں نے کہا ایک وہ لیکھر ام تھا ایک آج لیکھرام پیدا ہوا ہے جس نے یہ چیلنج کیا ہے۔اس کے نتیجے میں بعد میں ان کو بڑی سخت گھبراہٹ ہوئی کہ یہ تو میں ایسے چیلنج کر بیٹھا ہوں کہ جو بظاہر پورا ہوتے دکھائی نہیں دیتا تو انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں شائد یا ویسے ہی کسی جگہ اعلان کیا اور روز نامہ جنگ لاہور میں ۳۰/جنوری ۱۹۸۹ ء کی اشاعت میں یہ آپ اس کو پڑھ سکتے ہیں۔منظور احمد چنیوٹی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء تک صرف مرزا طاہر احمد کے ختم ہو جانے کی بات کی تھی ساری جماعت احمدیہ کی نہیں۔چلیں ایک یہ بھی اُن کو وقت کے اوپر تو بہ کی وضاحت کی توفیق مل گئی۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ منظور احمد صاحب چنیوٹی کے ساتھ جو خدا کا سلوک ہوا اور جو ان کے متعلق میں نے کہا تھا وہ کیا تھا؟ انہوں نے بعد میں بہت واویلا کیا کہ جماعت احمدیہ کے امام نے میرے متعلق قتل کی پیشگوئی کی ہے اور جس طرح ضیاء کو انہوں نے قتل کروایا ہے اس طرح میرے قتل کے بھی درپے ہیں۔اس لئے انہوں نے اعلان کیا اپنے خطبات میں کہ میں اس کا نوٹس صدر پاکستان کو بھی دے چکا ہوں، پرائم منسٹر کو بھی دے چکا ہوں باقی پولیس کے سب افسران کو بھی دے چکا ہوں کہ اگر میں قتل ہوا تو میرا قاتل مرزا طاہر احمد ہوگا کیونکہ اس نے یہ اعلان کروا دیا ہے۔یعنی مباہلہ تو جھوٹ اور بیچ پر تھا اور جواب میں جھوٹ بولا جا رہا ہے وہ بھی کھلا کھلا اور چھہ دلاور است دز دے کہ ہ بر مکلف چراغ دارد “ بھی کہا کہ میرے کف میں ان کی وہ کیسٹ ہے جس میں یہ اعلان کیا گیا اور آپ سب سن چکے ہیں اس خطبے کو وہاں ہرگز یہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔کھلم کھلا جھوٹ۔وہ اعلان کیا تھا میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں پھر دیکھیں آپ کہ خدا تعالیٰ نے وہ باتیں سچی کر دکھا ئیں یا نہیں جو ان کے متعلق میں نے کہی تھیں۔میں نے یہ کہا تھا کہ وو یہ مولوی لازماً اب اپنی ذلت اور رسوائی کو پہنچنے والا ہے۔( یہ ہے پیشگوئی ) یہ مولوی لازماً اب اپنی ذلت اور رسوائی کو پہنچنے والا ہے کوئی دنیا کی