خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 397 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 397

خطبات طاہر جلد ۸ 397 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء جو دوسرے حوالے جن سے مجھے تعجب ہوا تھا جس میں اس نے انکار کیا ہوا ہے وہ ہیں صراط مستقیم برمنگھم جولائی ۱۹۸۸ء۔اس میں لکھتا ہے: اس لئے اب مرزا طاہر احمد کو مرزا صاحب کی نمائندگی کرنے یا فریق بننے کی کوئی ضرورت نہیں۔کیونکہ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا وہ اپنے اعلان یا دعا کے انجام سے دوچار ہو چکا ہے۔“ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب پر اس نے تلبیس کی تھی یعنی تضحیک کی خاطر حق کی تلبیس کی تھی حق کو چھپایا تھا اور پہلے خود پیلنج دے بیٹھا تھا اس لئے خدا کی سزا سے بیچ نہیں سکا۔اس میں ایک بات اور لکھی جہاں تک مباہلہ کا تعلق ہے وہ تو نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہی دے سکتا ہے۔گویا پہلا مباہلہ جب اس کا چیلنج دیا تھاوہ نبوت کا دعوی کر رہے تھے اس وقت اور جھوٹا دعویٰ نبوت کرنے والا ویسے ہی ہلاک ہو جایا کرتا ہے۔۱۰ راکتو بر ۱۹۸۸ء کو اس کار کے حادثے کی خبر چھپی ہے واقعہ سیہ بھی ایک دردناک خبر ہے اس پر ہمیں خوشی نہیں ہے۔پھر برمنگھم کے Daily News میں جو واقعہ شائع ہوا ہے غم زدہ بیوہ کو ایک اور حادثہ سے دو چار ہونا پڑا اور اس طرح سوگواروں کا ہجوم ( یہ انگریزی اخبار میں شائع ہوا اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ہجوم کا ہجوم تہہ خانے میں جاپڑا اور پھر اس سے بہت سے زخمی ہوئے قریباً پچیس کے قریب اور واویلا پڑ گیا۔اس پر ہمیں کوئی خوشی نہیں، حقیقت ہے اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ تکلیف دہ واقعہ ہے اور کسی کی تکلیف پر مومن خوش نہیں ہوا کرتا لیکن خدا کے نشان پر ضرور خوش ہوا کرتا ہے۔اب میں آپ کے سامنے ایک دوسرے شخص کا ذکر کرتا ہوں جو دریدہ دینی میں آج اپنی مثال آپ ہے اور ان صاحب کا نام ہے منظور احمد چنیوٹی۔انہوں نے ایک اعلان شائع کیا مباہلے کے جواب میں اور اخبار جنگ لندن میں ایک سرخی لگی۔۲۱ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو اگلے سال ۱۵رستمبر تک میں تو ہوں گا قادیانی جماعت زندہ نہیں رہے گی ، مولانا منظور احمد چنیوٹی کا جوابی چیلنج۔جب یہ بات شائع ہوئی تو اس کے جواب میں میں نے ایک خطبہ پڑھا اور خطبے میں اس کا ذکر کیا اور میں نے کہا منظور چنیوٹی صاحب ہمیشہ بہانے سے کسی نہ کسی طرح اپنے فرار کی راہ اختیار کر لیا کرتے تھے اب