خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 399
خطبات طاہر جلد ۸ 399 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء طاقت اب اس کو اس ذلت اور رسوائی سے بچا نہیں سکتی جو خدا تعالیٰ مباہلہ میں جھوٹ بولنے والے باغیوں کے لئے مقدر کر چکا ہے اور لعنت الله عَلَى الْكَذِبِينَ (آل عمران : ۶۲) کے اثر سے اور اس کی پکڑ سے اب کوئی دنیا کی طاقت اسے بچا نہیں سکتی۔پس انشاء اللہ ستمبر آئے گا اور ہم دیکھیں گے کہ احمدیت نہ صرف زندہ ہے بلکہ زندہ تر ہے۔ہر زندگی کے میدان میں پہلے سے بڑھ کر زندہ ہو چکی ہے۔اگر مولوی منظور چنیوٹی زندہ رہا ( یہ الفاظ ہیں ) تو ایک ملک بھی اس کو ایسا دکھائی نہیں دے گا جس میں احمدیت مرگئی ہو۔“ اس کے متعلق کہتا ہے کہ وہ قتل کے متعلق میرے دھمکی دی گئی ہے۔اگر منظور چنیوٹی زندہ رہا تو ایک ملک بھی اس کو ایسا دکھائی نہیں دے گا جس میں احمدیت مرگئی ہو اور کثرت سے ایسے ملک دکھائی دیں گے جہاں پر احمدیت از سر نو زندہ ہوئی ہے یا احمدیت نئی شان کے ساتھ داخل ہوئی ہے اور کثرت کے ساتھ مردوں کو زندہ کر رہی ہے۔پس ایک وہ اعلان تھا جو منظور چنیوٹی نے کیا تھا ایک یہ اعلان ہے جو میں آج آپ کے سامنے کر رہا ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے ، خدا کی خدائی میں یہ بات ممکن نہیں ہے کہ منظور چنیوٹی سچا ثابت ہو اور میں جھوٹا نکلوں۔منظور چنیوٹی جن خیالات و عقائد کا قائل ہے وہ بیچے ثابت ہوں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو عقائد ہمیں عطا فرمائے ہیں آپ اور میں جن کے علمبردار ہیں یہ عقائد جھوٹے ثابت ہوں یہ ممکن نہیں ہے۔اس لئے ی شخص بڑی شوخیاں دکھاتا رہا اور جگہ جگہ بھا گتا رہا۔اب اس کی فرار کی کوئی راہ اس کے کام نہیں آئے گی اور خدا کی تقدیر اس کے فرار کی ہر راہ بند کر دے گی اور اس کی ذلت اور رسوائی دیکھنا آپ کے مقدر میں لکھا گیا ہے۔انشاء اللہ “ ( خطبه جمعه ۲۵ رنومبر ۱۹۸۸ء) اس کے بعد جو واقعات رونما ہوئے۔روز نامہ ملت ۶ / مارچ ۱۹۸۹ ءلندن میں یہ خبر شائع