خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 374

خطبات طاہر جلد ۸ 374 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء چنانچہ اس سلسلے میں ساری دنیا میں تحریک کر کے بعض اچھی آواز والوں کی آواز میں کیسٹس یہاں منگوائی گئیں اور ان کا جائزہ لے کر کم سے کم ہدایت ضرور میں نے کی تھی ان کو دوبارسب دنیا میں بھجوایا جائے یعنی ایک دفعہ اکٹھا کیا جائے پھر چن کر دوبارہ منتشر کیا جائے تا کہ اچھی آواز میں صحیح تلفظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام ان نمائشوں میں پڑھا جایا کرے۔اس کے ساتھ ہی ایک یہ بھی تاکید کی تھی کہ چونکہ یہ صدی غلبہ توحید کی صدی کے طور پر ہم منا رہے ہیں اس لئے خاص طور پر وہ نغمہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جس میں ہے لا الہ الا اللہ۔مصرعہ تو نہیں ہر مصرعے کے آخر پر یا ہر شعر کے دوسرے مصرعے کے آخر پر آتا ہے۔ہے دست قبله نما لاالہ الا اللہ ( کلام محمود صفحه : ۹۰) وہ بھی ایسی نظم ہے جو بہت ہی عمدہ ترنم کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہے۔ویسے تو ہر شعر ترنم سے پڑھا جاتا ہے لیکن بعض اشعار کے زیر و بم کو موسیقیت کے ساتھ ایک خاص مناسبت ہوتی ہے اور یہ نظم ایسی ہے جس کا ترنم تمام دنیا کے انسانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔اس کو بھی لگانا چاہئے۔کچھ میں نے منگوائے تھے نمونے مگر ابھی تک مجھے کوئی ایسا دل کو لگا نہیں کہ بہت ہی غیر معمولی ہو۔حالانکہ یہ نظم ایسی ہے جس کو بہت ہی اعلیٰ ، بہت ہی موثر آواز میں پڑھا جاسکتا ہے۔تو یہ اگر نظم بھی اس وقت دہرائی جائے ،اس کے ساتھ مجھے خیال آیا ہے کہ آپ کو ان اشعار کا ترجمہ بھی کرنا چاہئے اور وہ بھی موسیقی کے اثر میں زیادہ گہرائی پیدا کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مثلاً کلام ہے اے خدا اے کار ساز و عیب پوش و کردگار ( در شین صفحه: ۱۲۵) اس کو ایک شخص شعر میں پڑھتا ہے تو اس کے بعد اس کا ترجمہ ایک باوقار اثر انداز آواز میں سنایا جائے ٹھہر ٹھہر کے بجائے اس کے کہ مسلسل نظم ہو رہی ہے یا اس سے پہلے پڑھ لیں وہ ترجمہ۔آواز میں اگر نثر کے انداز میں بھی کوئی بات کہی جائے تو بعض دفعہ ایک آواز میں موسیقی ہوتی ہے اور آواز میں وقار ہوتا ہے اور بعض پڑھنے والے ایسے انداز میں نثر پڑھتے ہیں کہ اس کا اثر نغموں کا سا پڑتا ہے۔ایسے دوست دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں۔افریقہ میں تو میں جانتا ہوں۔میں نے اپنے دورے