خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 375 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 375

خطبات طاہر جلد ۸ 375 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء میں دیکھا ہے۔خدا تعالیٰ نے بڑی بڑی عظیم الشان با اثر آوازیں ان لوگوں کو عطا کی ہیں اور وہ عام جب گفتگو بھی کرتے ہیں تو ان کی آواز میں ایک دبدبہ، ایک شوکت ہے۔ایسے کلام کو بجائے اس کے که صرف اردو زبان میں پڑھ کر سنایا جائے یا منظوم کرنے کی کوشش کی جائے جو بہت ہی مشکل کام ہے۔نثر میں ترجمہ کر کے اور نغماتی طریق پر اس سے پہلے ایک آرٹسٹ کی طرح پڑھ کر سنایا جائے اور پھر وہ شعر شروع ہو جائے اُردو نظم کا اور اس کے بعد جب اس کا اثر ہو جائے اس کو دہرایا بھی جاسکتا ہے پھر ایک ترجمہ اور پھر وہ شعر تو اس طرح آپ کی نمائش جو ہے وہ بہت ہی خوبصورت ہو جائے گی اور ان باتوں سے مزین ہو جائے گی ، غیر معمولی اس کے اندراثر پیدا ہو جائے گا۔جہاں تک رپورٹوں کا تعلق ہے آخری بات اس ضمن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تمام جماعتیں اس بات کی نگرانی کریں ملکی سطح پر کہ ان کے ہاں کی رپورٹیں پہنچ رہی ہیں اور وہ نگرانی اسی طرح ہو سکتی ہے کہ ان کو یہ تاکید کریں کہ جور پورٹ وہ مجھے بھجواتے ہیں اس کی ایک نقل ان کو بھجوائیں اور دوسرے مجھے براہ راست ملک بھی رپورٹیں بھجوائیں کہ ہم نے جو جائزہ لیا ہے ہمارے ملک میں اس میں لٹریچر کی یہ کیفیت ہے۔تو مختلف مقامات جہاں انتظام ہیں وہ براہ راست رپورٹیں بھجوائیں اور ملک اپنی اجتماعی رپورٹ براہ راست بھجوائیں اور ان کی نقول وہ ایک دوسرے کو بھجوا دیں۔تا کہ ہر ایک کو پتا چلے کہ کیا ہو رہا ہے۔مثلاً ہندوستان ہے، ہندوستان میں اگر گیارہ یا بارہ مراکز ہیں جہاں نمائش ہونی ہے، جہاں لٹریچر کی تقسیم کے سنٹر بنائے گئے ہیں اگر ہندوستان کی رپورٹ ان سارے مراکز کے متعلق مجھے آ رہی ہے اور ساتھ ہر مرکز کو بھی جارہی ہے تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہر مرکز کو معلوم ہوگا کہ دوسرا مرکز کیا کام کر رہا ہے اور کون کتنا آگے بڑھ چکا ہے۔اس سے انشاء اللہ تعالیٰ ایک سے دوسرے کی راہنمائی بھی ہو گی اور جذ بہ رشک پیدا ہو کر آگے بڑھنے کے لئے انسان پہلے سے زیادہ مستعد ہوں گے۔اس کے ساتھ ساتھ ایک رپورٹ اور بھی داخل کر لیں کہ بعض مراکز کے تعمیر کا کام دیر سے شروع کیا گیا تھا اور ابھی تک وہ مراکز مکمل نہیں ہوئے یا اگر مکمل ہو چکے ہیں تعمیری لحاظ سے تو ان کے اندر جو اندرونی سیٹنگ ہوتی ہے وہ نہیں ہو سکی۔مجھے علم نہیں ہے کہ اس وقت کس حالت میں کونسا مرکز ہے۔بعض ہیں جو براہ راست رپورٹ بھیج دیتے ہیں اور بعض ہیں جو نہیں بھیجتے نہ ان کے ملک کی