خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 373
خطبات طاہر جلد ۸ 373 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء جذبات ان سے کھیلنے لگ جاتے ہیں۔پھر وہ ان جذبات کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتے ہیں ، پھر وہ جس طرف چاہیں ان کو لے جائیں اور اس کا آغاز شیطان سے ہوتا ہے کیونکہ شیطان حملہ کرتا ہے عموماً ان جگہوں سے جہاں سے انسان کو نظر نہیں آتا۔تو جہاں تو حید کا مضمون چلا ہے وہاں میں یہ بھی آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ اس قسم کے خطرات جماعت کے پھیلنے کے ساتھ بڑھنے شروع ہوں گے۔کیونکہ غیر تربیت یافتہ لوگ آئیں گے اور بعض لوگ اپنی نادانی میں خواہ وہ پاکستان کے ہوں یا ہندوستان کے یا کسی اور ملک کے اپنے ملک کے کلچر کو اس شدت کے ساتھ بھی پیش کریں گے کہ گویا وہی اسلام ہے۔وہ بھی غلط ہے لیکن خطرات ہیں اور غلطی خواہ کسی کی بھی ہو دوسرے فریق کو محتاط ہو جانا چاہئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ حملہ شیطانی حملہ ہے اس کے دفاع کے لئے ہمیشہ مستعد رہنا چاہئے۔ہم نے دنیا کو امت واحدہ بنانا ہے اور اس کے لئے ہم ہر قربانی کے لئے تیار ہیں اور یہ عزم لے کر اُٹھے ہیں کہ کسی قیمت پر بھی اسلام کی ، انسانیت کی وحدت کو منقسم نہیں ہونے دینا۔کیونکہ میرا کامل ایمان ہے، میرا دین یہ ہے کہ توحید کامل کے نتیجے میں انسانی وحدت حاصل ہوتی ہے اور اگر انسانی وحدت نہ رہے تو توحید کا تصور بھی منقسم ہو جاتا ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک ایسا پیغام جو انسان کو اکٹھا نہ کر سکے وہ تو حید کا پیغام ہو۔لازماً اس پیغام میں رخنے پڑتے ہیں۔بعض دفعہ پیغام غلط سمجھا جاتا ہے اس کے نتیجے میں تو میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔بعض دفعہ تو میں متفرق ہونے لگتی ہیں تو پیغام کو منقسم کر دیتی ہیں۔تو توحید سے وفا کا تقاضا یہ ہے کہ ان چیزوں کے اوپر ہمیشہ متنبہ اور مستعد اور نگران رہیں۔کسی قیمت پر بھی انسان کو انسان سے الگ نہ ہونے دیں اور قومیت کے تصور کو جاہلانہ باطل اور شیطانی تصور سمجھیں۔اس ضمن میں ایک اور ہدایت مجھے یاد آ گئی جو میں نے صد سالہ جشن کی تقریبات کے سلسلے میں دی تھی مگر مجھے کہیں وہ سنائی نہیں دی۔وہ ہدایت ایسی ہے جس کا شنوائی سے تعلق تھا۔میں نے تاکید کی تھی کہ نمائشوں کے دوران حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایسا کلام جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد کا ذکر ہو یا حمد پر مشتمل کلام ہو یا نعتیہ کلام ہوں آنحضرت ﷺ کے عشق میں یا بنی نوع انسان کی ہمدردی پر مشتمل کلام ہو وہ اچھی آواز میں پڑھ کے سنایا جائے اور جسے کہتے ہیں بیک گراؤنڈ میوزک۔تو بیک گراؤنڈ میوزک کے طور پر وہ چلتا رہے۔اس کا طبیعتوں پر بہت عمدہ اثر پڑتا ہے۔