خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 353 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 353

خطبات طاہر جلد ۸ 353 خطبه جمعه ۲۶ رمئی ۱۹۸۹ء ہے اور عطا کرتی ہے۔خلافت نہ سکھاتی ہے نہ عطا کرتی ہے نبوت کا فیض پاتی ہے اور وہی فیض ساری جماعت میں عام ہو جاتا ہے۔میرا یہ تجربہ ہے کہ بہت سے لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ جناب ہم تو آپ کے ایسے عاشق اور فدائی ہیں کہ جو آپ کہیں ، آپ ہمیں کہیں کہ ہماری ساری جائیداد کسی کی ہو جائے تو ہم وہ کر دیں گے اور جب ان کا قضائی جھگڑا چل پڑے تو میں فیصلہ کروں تو کہتے ہیں اچھا یہ انصاف ہے؟ اس گدی پر آپ بیٹھے ہوئے ہیں، کہتے ہیں انصاف کرو، انصاف کرو اور خود انصاف نہیں آتا اور منتیں کر کے کوشش کر کے مجھے مجبور کر رہے ہوتے ہیں کہ آخری اپیل ہماری آپ سن لیں کیونکہ پچھلے لوگ سارے غیر متقی تھے اور آخری تقویٰ آپ کے پاس ہے ہم آپ کی بات مانیں گے۔تو فیصلہ ان کے خلاف بھی ہو جاتا ہے تو اگر آپ نے اتفاق سے رہنا ہے، اگر ایک امت واحدہ بننا ہے اور اس ساری صدی میں ساری دنیا کو امت واحدہ میں تبدیل کرنا ہے تو حبل اللہ کو اس طرح پکڑیں جس طرح اول حبل اللہ کو صحابہ نے پکڑا تھا اور جب وہ حبل اللہ جدا ہونے والی تھی تو بعد میں آنے والی حبل اللہ کی پیشگوئی کی گئی اور اسی پیشگوئی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قدرت ثانیہ کے طور پر پیش کیا ہے۔اگر آپ سب یہ سمجھیں اور یقین رکھیں جیسا کہ واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ وقت ہر ایک میں برابر ہے اور ہر ایک سے محبت کرتا ہے اور بعض دفعہ وہ ایسے فیصلے بھی کر سکتا ہے اور میں نے کئے ہیں جن میں انصاف کے جھگڑوں سے بالا ہو کر محبت کے مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، اپنائیت کے مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے بعضوں پر بلند تو قعات رکھتے ہوئے کہ وہ اس وقت قربانی کریں گے، ایسے فیصلے کرتا ہوں کہ جن کے متعلق میں جانتا ہوں کہ اس کے بغیر حل ممکن نہیں ہے اور وہ انصاف کا فیصلہ اس قسم کا نہیں جو قضائی فیصلہ ہے ہرگز نہیں۔ہاں جب قضائی فیصلوں کا وقت آتا ہے تو پھر یہ مضمون الگ ہو جاتا ہے۔اس وقت میں خالصہ قضائی فیصلے کرتا ہوں لیکن وہ لوگ جو قضائی فیصلوں میں بھی نا انصافی کے الزام لگاتے ہیں وہ دوسرے فیصلے سننے کے مجاز ہی نہیں ہو سکتے وہ تو برداشت ہی نہیں کر سکتے کوئی ایسا فیصلہ جس میں خاندان کے سربراہ کے طور پر محبت اور پیار کے فیصلے کئے جائیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے بعض موقع پر کئے۔تو حبل اللہ کے مضمون کو آپ سمجھیں اگر آپ نے اتفاق اور محبت سے دنیا میں رہنا ہے تو خلیفہ وقت سے جو بھی ہو، جب بھی ہوا ایسا تعلق قائم کریں جس تعلق کا ایک نمونہ وہ سکھ خاندان دکھا رہا