خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 352
خطبات طاہر جلد ۸ 352 خطبه جمعه ۲۶ رمئی ۱۹۸۹ء نبوت کی نعمت سے تم اخواہ بن گئے۔اس سے بہتر مثال کیوں نہ پائی جائے اور امر واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت کے بعض فیصلے فقہی نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ خاندان کے ایک سربراہ کی طرح ایسے فیصلے ہوا کرتے تھے کہ جس کے متعلق آپ جانتے تھے کہ ہر شخص لا ز ما محبت سے قبول کرے گا۔اب آجکل کی دنیا میں اگر فقہی جھگڑے شروع ہو جا ئیں ماں، بیٹوں اور باپ کے درمیان تو کوئی قاضی نہیں ہے جو بیٹے کی جائیداد کو کلیہ باپ کے سپر د کر دے اور بیٹے کو کہے کہ تمہارا کوئی حق ہی نہیں ہے۔مگر آنحضرت ﷺ کے زمانے میں آپ کے ایک صحابی کے بیٹے نے آپ سے شکایت کی کہ میرا صلى الله باپ مجھ سے یہ کرتا ہے اور یہ کرتا ہے، میرا پورا حق ادا نہیں کرتا۔جب آنحضور ﷺ نے باپ کی طرف دیکھا وہ خاموش کھڑے تھے کوئی لفظ بھی نہیں بول رہے تھے۔آپ نے کہا بتاؤ تم تو کچھ بولو کیا بات ہے؟ اس پر انہوں نے عربی کے بعض اشعار پڑھے جن کا مطلب یہ تھا کہ یہ چھوٹا تھا، اس کو چلنا نہیں آتا تھا، میں نے پیار اور محبت سے اس کو چلنا سکھایا، میں اس کی ٹانگیں بنا۔اس کو ہاتھوں سے کام لینا نہیں آتا تھا ، لقمے منہ میں میں ڈالا کرتا تھا اور اس کے ہاتھ میں بن گیا۔اس کو بولنا نہیں آتا تھا میں اس کی زبان ہوا اور پھر اس کو میں نے بولنا سکھایا۔اسی طرح وہ اشعار مضمون کو آگے بڑھاتے رہے اور اس کے بعد اس نے کہا کہ اب یہ جب طاقتور ہو چکا ہے،اس کو چلنا آ گیا، اس کو ہاتھوں کا استعمال آ گیا، اس کو تیر چلانے میں نے سکھا دیئے تو اب میں ہی اس کا نشانہ بن رہا ہوں۔آنحضور فرط جذبات سے مغلوب ہو گئے اور اس بیٹے کو گریبان سے پکڑا اور کہا جا تو اور تیرا جو کچھ ہے وہ سارا تیرے باپ کا ہے اور اس بیٹے نے ایک لفظ احتجاج کا بلند کئے بغیر فوراً اس فیصلے کو قبول کر لیا۔اب ظاہر بات ہے یہ کوئی فقہی فیصلہ نہیں ہے۔یہ محبت اور عشق کا فیصلہ ہے جو آنحضرت ﷺ جانتے تھے کہ ان دونوں باپ بیٹا کو آپ سے ہے اور اس فیصلے کے بعد یہ جھگڑا نہیں تھا کہ انصاف کیا کہتا ہے اور فلاں بات کیا کہتی ہے، کس کی کمائی تھی اور کس کی نہیں تھی ؟ ورنہ آجکل کے خاندانی جھگڑوں میں تو یہی چل رہا ہے کہ میرے باپ نے نہیں کمایا تھا اور میں نے کمایا تھا اور باپ کہتا ہے کہ میری کمائی میں۔اس کو میں نے خاص طور پر دیا تھا جو امانت ہے اور باقی بھائیوں کو یہ دے نہیں رہا۔اس قسم کے روز جھگڑے چلتے رہتے ہیں لیکن خلافت کا مضمون ایک ایسا ہے جو آنحضرت ﷺ کی غلامی اور آپ کی برکت سے ان سب جھگڑوں کو طے کر سکتا ہے اگر وہی تعلق خلافت سے قائم ہو جو تعلق نبوت سکھاتی ނ