خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 354
خطبات طاہر جلد ۸ 354 خطبه جمعه ۲۶ مئی ۱۹۸۹ء ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے جو جرمنی میں آباد ہے اور خدا کے فضل سے لکھوکھہا کے مالک ہیں، کروڑہا کے مالک ہیں لیکن کسی بھائی بھائی کے درمیان کسی بھائی بہن کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔کیونکہ وہ بزرگ ماں زندہ ہے جس کا لفظ ان کے لئے قانون بنا ہوا ہے۔بعض دفعہ ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ ایک انصاف کا تقاضا پورا کیا جائے تو جھگڑے طے نہیں ہو سکتے کیونکہ بعض لوگ ضدی ہوتے ہیں اور فساد قائم رہتا ہے۔اس وقت اس خیال سے کہ ایک شخص زیادہ شریف سعید فطرت ہے اگر اس کے خلاف بھی فیصلہ کیا جائے تو وہ مان جائے گا۔ایسا فیصلہ کرنا پڑتا ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے قضائی نہیں بلکہ اس کی محبت پر اعتماد کرتے ہوئے ، اس پر بھروسہ کرتے ہوئے۔اپنے گھر میں بچوں کے اختلافات میں میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے اس طرح۔ایک دفعہ دو بچیوں کی آپس میں لڑائی شروع ہو گئی کسی بات پر میں نے ایک فیصلہ کیا اس بچی نے کہا کہ ہیں اتا یہ کیا ؟ آپ تو کہتے ہیں سچی بات کروں گا۔میں نے کہا یہ سچی بات ہی ہے مجھے پتا ہے کہ تم مان جاؤ گی اور تم قربانی کرو گی ، اس پہ مجھے اتنی امید نہیں۔فوراً اس نے سر پھینک دیا اس نے کہا بالکل ٹھیک ہے، مجھے منظور ہے۔تو توقعات کے بلند ہونے سے معاملہ انصاف سے بڑھ کر احسان میں آجاتا ہے لیکن اگر کوئی انصاف کا مطالبہ کر دے گا تو پھر لازماً خلیفہ وقت کو تنزل کر کے انصاف کے مضمون میں اُترنا پڑے گا، انصاف کی منزل پر واپس آنا پڑتا ہے پھر لیکن عموماً ایسے موقعوں پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ جہاں پتا ہے کہ وہ فریق انصاف کا مطالبہ کرے گا نہیں بلکہ احسان کی فضاء میں ہی سانس لینا اپنے لئے زیادہ پسند کرے گا۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کی میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں۔میں ہوں یا میرے بعد دوسرے خلفاء ہوں ان کے ساتھ ایسا تعلق قائم کریں جو ایک خاندان کے ایسے سربراہ کے ساتھ ہوا کرتا ہے کہ انسان اپنی چیز سمجھتا نہیں، ہر چیز اس کی سمجھتا ہے اور اس کے فیصلوں کو پھر اس نظر سے دیکھتا ہے، ایسی صورت میں کبھی جماعت میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہے گا۔اختلاف ہوں گے لیکن وہ ہٹ جایا کریں گے ، دور ہو جایا کریں گے۔دوسری نصیحت اس ضمن میں یہ ہے کہ اپنے ذاتی اختلافات کو جماعت کی طرف منتقل نہ کیا کریں۔یہ ایک بہت ہی خطرناک عادت ہے کہ بعض لوگ اپنے خاندانی جھگڑوں کو، اپنے ذاتی تعلقات کو نظام جماعت کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔یعنی جب وہ نظام جماعت میں کسی عہدے پر