خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 296

خطبات طاہر جلد ۸ 296 خطبه جمعه ۵ رمئی ۱۹۸۹ء ممالک کے معاشرے میں دکھائی دے رہی ہے۔اس گزشتہ چند سالوں میں جتنے مسلمانوں نے ، جتنے مسلمانوں کی گردنیں ماری ہیں گزشتہ ایک ہزار سال میں انہوں نے غیروں کی گردنیں اتنی نہیں ماریں۔صرف ایران ، عراق جنگ میں مسلمانوں نے مسلمانوں کی اتنی گردنیں ماری ہیں کہ جو میں بیان کر رہا ہوں اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔گزشتہ ایک ہزار سال میں غیروں کی گردنیں اتنی نہیں ماریں اور آج بھی یہ سلسلہ خونریزی کا مسلمان مسلمان کے درمیان اسی طرح جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔فرمایا میرے بعد تم لوگ کافر نہ بن جانا۔کافر کی تعریف فرمائی۔ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔میں تمہارے پاس ایک ایسی چیز چھوڑ چلا ہوں اگر تم نے اس پر عمل کیا اور اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔وہ اللہ کی کتاب ہے۔خبر دار میں نے تبلیغ کر دی ہے۔اے اللہ! تو بھی گواہ ٹھہر کہ میں نے تبلیغ کر دی ہے۔اے لوگو! تمہارا رب ایک ہی ہے اور تم سب کا باپ بھی ایک ہی ہے، تم سب آدم سے ہو اور آدم مٹی کا پتلا تھا۔یعنی انسان کو نہ صرف یہ کہ انسانی وحدت کی تعلیم دی اور چونکہ ہم تو حید کی صدی میں اس رنگ میں داخل ہو رہے ہیں کہ بنی نوع انسان کو بھی امت وحدہ بنانا ہے۔اس لئے خطبے کا بڑا گہرا تعلق ہے آج کے مضمون سے۔آئندہ صدی کے لئے، ہمارے لئے ایک لائحہ عمل ہے ایک عظیم الشان لائحہ عمل ہے، ایک ایسا خوبصورت چارٹر ہے بنی نوع انسان کے تعلقات کو امن اور صلح پر قائم کرنے کے لئے اس سے زیادہ خوبصورت چارٹر کبھی دنیا میں کہیں نہیں لکھا گیا۔فرماتے ہیں تم سب آدم سے ہو اور آدم مٹی کا پتلا تھا۔مٹی کا پتلا کہنے میں عجز کی طرف اشارہ ہے۔عجز کی تعلیم دی گئی ہے کہ تم بڑی بڑی ڈینگیاں مارتے ہو، تھوڑی سی طاقتیں حاصل کر کے متکبر ہو جاتے ہو، تھوڑی سی دولت پا کر تم بے راہ روی اختیار کرنی شروع کر دیتے ہو تو سنو کہ تم مٹی کے بنائے گئے تھے اور یہ مضمون اس میں شامل ہے کہ مٹی کی طرف لوٹ جاؤ گے۔بے شک بزرگ تو اللہ کے نزدیک تم میں سے وہی ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی اور پر ہیز گار ہے۔عربی کو عجمی پر کوئی وجہ فضیلت نہیں ہے۔پہلے آپ نے عرب کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ حضرت محمد مصطفی ملے عربوں میں سے پیدا ہوئے تھے اس لئے اگر کسی قوم کی فضیلت کا تصور جواز رکھ سکتا تھا تو عربوں کی فضیلت کا تصور ہے جو جواز رکھ سکتا تھا۔کیونکہ کائنات کا سب سے مقدس اور سب سے معزز وجود اور سب سے زیادہ متقی وجود عربوں میں پیدا ہوا تو یہ دعوی فرمانے کے بعد یہ فصاحت و بلاغت بھی دیکھئے