خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 295
خطبات طاہر جلد ۸ 295 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۸۹ء پھر دیکھیں کس شفقت کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی معہ عورتوں کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی طرف متوجہ فرماتے ہیں۔فرماتے ہیں تمہارے ساتھ عورتیں مجبور آتی ہیں۔بے اختیار اور بے بس ہوتی ہیں ، ماں باپ اپنے گھروں سے رخصت کر دیتے ہیں اور تمہارے سپردکر دیتے ہیں۔یہ بھی دراصل امانت کا مضمون ہے۔وہ جو ماں باپ کے گھر ناز و نعم سے پلتی تھیں وہ تمہارے ساتھ بے بس اور مجبور ہو کر آ جاتی ہیں اب تم ان کے امین ہو جو خود کچھ نہیں کر سکتیں تم ان کو خدا کی امانت کے طور پر حاصل کر سکتے ہو۔بظاہر مضمون ماں باپ کی امانت سے شروع ہوا ہے لیکن آنحضرت علیہ نے اس کو آخری مقام تک پہنچا دیا ہے۔فرمایا بے بس ہو کر آئیں تم ان کے امین ہومگر یا درکھو تم ان کو خدا کی امانت کے طور پر حاصل کر سکے ہو کیونکہ خدا کی اجازت سے آئی ہیں اور خدا کے بنائے ہوئے قوانین کے تابع آئی ہیں۔اس لئے بڑا گہرا معرفت کا فقرہ ہے جو آپ نے فرمایا کہ تم ان کو خدا کی امانت کے طور پر حاصل کر سکے ہو اور اس کے نام سے تم نے ان کو جائز کیا ہے۔پس ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ان کے لئے بھلائی سوچا کرو۔لوگو! میں نے تبلیغ کر دی ہے۔اے اللہ ! تو بھی گواہ رہنا۔بار بار اس موقع پر حضرت اقدس محمد مصطفی عملے نے اس قسم کے فقرے دہرائے کہ لوگو ! میں نے تبلیغ کر دی ہے اور اے اللہ ! تو گواہ رہنا۔کیا مطلب ہے؟ مطلب ہے کہ میں نے امانت تو امانت دار کے سپر د کر دی ہے۔اے خدا تو نے مجھے جس بات کا امین بنایا تھا میں نے اس امانت میں خیانت نہیں کی۔جس طرح تو نے فرمایا، جو کچھ تو نے فرمایا ایک ایک لفظ ، ایک ایک حرف ایک ایک شوشہ ، ایک ایک نقطہ میں نے بنی نوع انسان تک پہنچا دیا ہے اور یہ کہہ کر آپ فرماتے تم بھی گواہ ٹھہر و اور پھر پوچھا کہ بتاؤ میں نے امانت تمہارے سپرد کردی یا نہیں کر دی؟ سب نے کہا یا رسول اللہ بالکل صحیح فرمایا۔آپ نے خوب امانت کا حق ادا کیا، آپ نے پیغام پورے کا پورا ہم تک پہنچا دیا۔فرمایا لوگو! تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں۔کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی کا مال بغیر اس کی مرضی کے لینا جائز نہیں ہے۔دیکھنا میں نے تبلیغ کر دی ہے۔اے اللہ ! تو بھی گواہ رہ اور اے لوگو! تم بھی گواہ ٹھہرو، میں نے تبلیغ کر دی ہے۔میرے بعد تم لوگ کافر نہ بن جانا، ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔آج بدقسمتی سے عالم اسلام میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس خطبہ وداع کی ٹوٹل Negation ہے۔کلیۂ اس کے مضمون کے برعکس صورت حال ہمیں مسلمان