خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 297
خطبات طاہر جلد ۸ 297 خطبه جمعه ۵ رمئی ۱۹۸۹ء حضوراکرم ﷺ کی کہ کتنے عظیم مقام کتنی بلندیوں تک پہنچی ہوئی ہے۔فرمایا تم میں سب سے زیادہ معزز شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہے اور آپ دوسری جگہ فرما چکے ہیں کہ سب سے زیادہ پر ہیز گار میں ہوں، سب سے زیادہ متقی میں ہوں۔تو معا خیال آیا کہ اس عزت کا ، اس اکرام کا تعلق عرب قوم سے نہ باندھ دیا جائے اور یہ نہ شروع ہو جائے کہ عرب اپنی فضیلت اور اپنی برتری کا دعویٰ کرنے لگے کہ چونکہ دنیا کا سب سے معزز انسان ہم میں پیدا ہوا تھا اس لئے بحیثیت قوم ہم سب سے معزز ہیں۔فرمایا عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ہے مگر تقویٰ اور پر ہیز گاری سے۔آج بھی اگر عرب متقی ہوگا تو وہ اس حد تک معزز ہوگا اور اگر آج بھی کوئی عجمی متقی ہو گا تو اسی حد تک معزز ہو گا۔اے لوگو! میں نے تبلیغ کر دی ہے اور اے اللہ ! تو بھی گواہ رہ کہ میں نے تبلیغ کر دی ہے۔لوگو! تم سے عنقریب اللہ تعالیٰ میری بابت سوال کرے گا تو تم کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے ہم تک پیغام پہنچا دیا اور حق رسالت ادا فرما دیا اور امت کو نصیحت کرنے میں کوئی فروگزاشت نہیں کی اور تمام حجابات اٹھا دیئے۔امانت الہی کو ٹھیک ٹھاک طریقے سے ہم تک پہنچا دیا۔اس پر آپ نے بڑے اطمینان سے فرمایا کہ اے لوگو! گواہ رہو اور اے اللہ ! گواہ رہ کہ یہ سب لوگ میری رسالت اور امانت کی گواہی دیتے ہیں۔پس اس سے زیادہ بہتر ، اس سے زیادہ حسین ، اس سے زیادہ اصلاح نفس کرنے والا اور کوئی پیغام میں سوچ بھی نہیں سکتا اور اس آخری جمعہ پر میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی وہ جماعت کی یہی نصیحت پہنچاتا ہوں اور جس طرح آپ نے اس کے بعد فرمایا کہ اے وہ لوگو! جو حاضر ہواس پیغام کولوگوں تک پہنچاتے چلے جاؤ جو غیر حاضر ہیں اور وہ آگے پھر ان لوگوں تک پیغام پہنچاتے رہیں جو غیر حاضر ہیں۔اس لئے وہ سب لوگ جو اس پیغام کو سنتے ہیں یا بعد میں پڑھیں گے یا سنیں گے ان سب کو میں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ اس پیغام کو آگے پہنچاتے چلے جائیں اور پھر پہنچاتے چلے جائیں۔اپنی نسلوں میں پہنچاتے چلے جائیں اور اپنی نسلوں کو نصیحت کرتے چلے جائیں کہ وہ ہمیشہ اس پیغام کو زندہ رکھیں، الفاظ میں نہیں بلکہ اپنے اخلاق میں، اپنے کردار میں ، اپنے اعمال میں یہاں تک کہ ان کے خون کا ذرہ ذرہ اس بات کی گواہی دے کہ ہم نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اطاعت کی امانت کا حق ادا کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔