خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 294
خطبات طاہر جلد ۸ 294 خطبه جمعه ۵ رمئی ۱۹۸۹ء اور اس کا رسول ہے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )۔یہ سب سے زیادہ عظیم الشان گواہی جو دی گئی ہے وہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اپنی زبان سے تھی اور یہ حضور اکرم ﷺ حج وداع کے موقع پر خود گواہی دے رہے تھے۔میں گواہی دیتا ہوں ( آپ فرما رہے تھے کہ ) محمد اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔اے اللہ کے بندو! میں تم کو تاکید کرتا ہوں اور ابھارتا ہوں کہ تم اس کی اطاعت کرو۔میں نیکی سے ابتداء کرتا ہوں۔پھر اس کے بعد اے لوگو! تم میری سنو میں تم کو کھول کر بتاتا ہوں کہ شائد اس سال کے بعد اس جگہ مجھ سے تم پھر ملاقات نہ کر سکو۔اے لوگو! تمہارے آپس کے خون اور مال تم پر حرام ہیں یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو۔جس طرح سے یہ دن اور تمہارا یہ شہر اور تمہارا یہ مہینہ حرام یعنی بزرگ ہے۔دیکھو میں نے حق تبلیغ ادا کر دیا۔اے اللہ ! تو بھی گواہ رہنا۔پس جس کے پاس جس کی کوئی امانت ہو اس کو اس کے مالک کو پہنچا دے۔جس کے پاس جس کی کوئی امانت ہو اس کو اس کے مالک تک پہنچا دے۔بہت ہی عظیم الشان اور وسیع مضمون ہے۔خدا نے ہمیں آپس کے تعلقات میں امین مقر رفرمایا ہوا ہے اور جس کا جو حق ہے اس تک پہنچانا یہ امانت داری ہے اور یہ وہ آخری پیغام ہے جس میں حضور اکرم ﷺ نے اسے سب سے نمایاں کر کے آپ کے سامنے رکھا۔پس جس کے پاس جس کی کوئی امانت ہو اس کو اس کے مالک کو پہنچا دے۔جاہلیت کا تمام سودی کاروبار آج سے ممنوع قرار پاتا ہے۔پھر عورتوں سے تعلقات کے متعلق اور عورتوں کے مردوں پر حقوق اور مردوں کے عورتوں پر حقوق سے متعلق آپ نے نصیحت فرمائی اور چونکہ اس ضمن میں جماعت میں ابھی سے بہت سی کمزوریاں داخل ہو چکی ہیں جو انتہائی تکلیف کا موجب بنتی ہیں۔اس لئے خصوصیت کے ساتھ میں اس حصے کو آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا لوگو! عورتوں کے تم پر حقوق ہیں اور تمہارے عورتوں پر حقوق ہیں۔ان پر تمہارے یہ حقوق ہیں کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی دوسرے کو نہ سونے دیں اور تمہاری اجازت کے بغیر ایسے لوگوں کو گھروں میں نہ آنے دیں جن کو تم نا پسند کرتے ہو اور بے حیائی کی باتیں نہ کریں۔اگر وہ ایسا کریں تو تم ان کو جدا کر سکتے ہو،الگ سُلا سکتے ہو اور نرم مار مار سکتے ہو سخت نہیں۔آنحضرت ﷺ کو جیسی شفقت تھی عورتوں پر اتنی بڑی برائی بیان کرنے کے باوجود جب مار کی اجازت دی تو فرمایا نرم مار مار سکتے ہو سخت مار نہیں۔پس اگر وہ باز آجائیں اور تمہاری تابعدار ہو جائیں تو تم پر ان کی خوراک، ان کا پہناوا، نیکی اور مقررہ طریق پر واجب ہے۔