خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 262
خطبات طاہر جلد ۸ 262 خطبه جمعه ۲۱ ۱۷اپریل ۱۹۸۹ء پس بہت بڑے کام پڑے ہوئے ہیں اپنے اپنے ملکوں میں جائزے لیں اگر انگلستان کی جماعت انگلستان ہی کا جائزہ لے لے کہ یہاں کتنے لوگ موجود ہیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ ہم نے جو کہا ہمیں صرف چار نمونے بھیج دیں چینی ترجمے کے اور آٹھ بھجواد میں آپ جاپانی ترجمے کے ہمارا کام ہو جائے گا۔کام کیسے ہو جائے گا ؟ لاکھوں ہیں ایسے لوگ یہاں جو چینی زبان کے جاننے والے، جاپانی زبان جاننے والے ، دوسری زبانوں والے موجود ہیں اگر ان سے آپ رابطے پیدا کرنے شروع کریں، ان کو معزز مہمانوں کے طور پر اپنی نمائشوں میں بلا نا شروع کریں، ان کی ایک فہرست تو بنائیں کم سے کم۔پھر ان کی لیڈرشپ کیا ہے، کہاں رہتی ہے؟ ان کے دفاتر کہاں ہیں؟ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انگلستان میں اس کثرت کے ساتھ غیر قو میں موجود ہیں اور غیر قوموں کے بڑے بڑے لیڈرز موجود ہیں۔ان کے ایسے مراکز ہیں جو عالمی مراکز بنے ہوئے ہیں اور لنڈن میں ہیں۔ان سے آپ رابطے پیدا کریں تو پھر آپ کو پتا چلے گا کہ کتنی کھلی سرزمین ہے خدا تعالیٰ کی، کتنے کام کے نئے نئے رستے ہیں جو آپ کے سامنے کھڑے آپ کے منتظر ہیں قدم بڑھانے کی دیر ہے۔کام کرنے والے خدا عطا فرماتا ہے آپ خود کام کرنے والے بننا شروع ہو جائیں پھر دیکھیں کس طرح آپ کے دائیں بائیں کام کرنے والے نصیب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔میں نے تو یہی دیکھا ہے اللہ کا سلوک۔کوئی کام پکڑ لو کوئی اس کام کے واقف نہ بھی ہوں آپ شروع کر دیں پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت کی آوازیں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔کوئی دائیں سے کوئی بائیں سے کوئی کسی ملک سے کوئی کسی ملک سے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ سلطان نصیر عطافرما تا چلا جاتا ہے اور اپنی توفیق کومحمد مصطفیٰ کے غلاموں کی توفیق کے طور پر پیش کریں پھر دیکھیں آپ کہ خدا تعالیٰ اس توفیق کو کتنا بڑھائے گا اور اس کو کتنی برکتیں دے گا۔پس نمائش کے کام ہیں اور نمائش کے علاوہ تقسیم لٹریچر کے کام ہیں جن میں بہت خلا باقی ہیں ابھی ، بہت سی محنتیں کرنے والی ہیں اور جہاں تک لٹریچر کی سپلائی کا تعلق ہے ہم نے تمام اصل پلیٹیں وغیرہ ہر زبان کے لٹریچر کی محفوظ رکھی ہوئی ہیں اور منتظر بیٹھے ہیں۔کسی ملک سے ختم ہونے کی اطلاع ملے یا قریب الاختتام ہونے کی اطلاع ملے انشاء اللہ نیا لٹریچر چھپ جائے گا بلکہ بعض جگہ ہم پلیٹیں بھجوا دیں گے بعض جگہ کیمرہ ریڈی کا پیز بھجوا دیں گے۔اگر زیادہ ضرورت ہے تو تم خود چھاپتے چلے جاؤ