خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 261

خطبات طاہر جلد ۸ 261 خطبه جمعه ۲۱ راپریل ۱۹۸۹ء رپورٹ اس بات کی بھجوائی یعنی کمال یوسف صاحب نے آجکل کیونکہ سویڈن میں چونکہ وہ مقرر ہیں کہ سویڈن میں دنیا کی مختلف قومیتیں کتنی کتنی آباد ہیں اور اس کو پڑھ کر میں حیران ہو گیا۔مجھے بھی نہیں اندازہ تھا کہ چھوٹے سے ملک میں جو عموماً غیر ملکیوں کو پناہ دینے کی پالیسی کو پسند نہیں کرتا۔سوائے چند یورپین ممالک کے عموماً سویڈن کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ غیر ملکی یہاں نہ بس سکیں لیکن وہاں بھی اس کثرت سے دوسری قومیں آباد ہیں مختلف عرب ممالک کے نمائندے، افریقن ممالک کے نمائندے، مشرقی یورپ کے نمائندے، مشرق بعید کے نمائندے ، بعض سینکڑوں میں ، بعض ہزاروں میں ، بعض لاکھوں میں موجود ہیں۔پاکستان کے لوگ ہیں، افغانستان کے لوگ ہیں۔اب اس پر مجھے خیال آیا کہ جب ہم نے مطالبے کئے تھے کہ آپ بتا ئیں آپ کو مختلف زبانوں میں کتنا کتنا لٹریچر چاہئیے ؟ تو جو جواب آیا اسی سے اندازہ ہو گیا کہ کتنی ہمت ہے۔وہ زبان جو ان کے ملک میں بولی جاتی ہے بعض نے اس کے متعلق بھی اتنا چھوٹا مطالبہ کیا کہ حیران رہ گیا میں۔میں نے کہا آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ ہم کہتے ہیں آپ زیادہ مانگیں اور آپ تھوڑا سا مانگ کر ہمت ہار بیٹھے ہیں صرف اس لئے کہ کام کرنا پڑے گا۔اب ہندوستان کے لئے پانچ ہزار کا مطالبہ کوئی بات ہے؟ یعنی اتنی کروڑ کی آبادی شائد اس سے بھی زیادہ ہوگئی ہو۔اتنا عظیم الشان ملک اور وہاں مطالبہ یہ آرہا ہے جی آپ فلاں زبان ہمیں پانچ ہزار بھیج دیں اور فلاں زبان پانچ ہزار بھیج دیں اور فلاں دو ہزار بھیج دیں ہمارا گزارہ چل جائے گا۔جس طرح غریب کہتا ہے چلو ایک روٹی کا سوال ہے بھوکے ہی سہی چلو گزارہ ہی کرنا ہے۔تو گزارہ کیسا چلے گا؟ پیغام خدا تعالیٰ نے جو پہنچایا ہے وہ تو اسی کروڑ کو پہنچادیا اور طلب پیدا کر دی استی کروڑ کے دل میں اور آپ کی ہمت یہ ہے کہ دو ہزار، چار ہزار، پانچ ہزار دے دیں ہمارا کام چل جائے گا۔کیسے چلے گا کام؟ ہمت بڑھا ئیں تقسیم کریں گے تو اور طاقت ہوگی پھر اور تقسیم کریں گے اور طاقت نصیب ہو گی۔یہ وقت ایسا ہے کہ جہاں کروڑوں کی تعداد میں ہمیں اپنے لٹریچر کو غیروں تک پہنچا دینا چاہئے۔تو طلب پیدا ہوگی تو اس طلب کی پیاس بجھانی چاہئے اور بڑی سعید روحیں ہیں جو صرف پیغام نہ پہنچنے کے نتیجے میں اندھیروں میں بھٹک رہی ہیں۔بڑا ہی سیراب کن پیغام ہے، پیاسیں بجھانے والا پیغام ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا پیغام ہے۔اسے مسیح موعود کی زبان سے آج ہم دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔