خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 263

خطبات طاہر جلد ۸ 263 خطبه جمعه ۲۱ را پریل ۱۹۸۹ء اور اللہ کے فضل سے اس کے لئے روپیہ بھی اللہ تعالیٰ عطا فرما تا چلا جائے گا۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ اس پہلو سے اس صدی کو منانے کے لئے اب اس نئی ہمت، نئے عزم ، نئے تو کل الی اللہ اورنئی دعاؤں کے ساتھ کام کے منصوبے بنا ئیں اور پھر ان پر عمل درآمد شروع کر دیں۔انشاء اللہ تعالیٰ اس ایک سال کے اندر اتنا پیغام ہم نے دنیا میں پہنچانا ہے کہ گزشتہ سوسال میں اتنا پیغام نہیں پہنچایا گیا ہو اور بعض صورتوں میں اتنا پیغام پہنچانا ہے کہ گزشتہ چودہ سوسال میں بھی نہیں پیغام پہنچایا گیا ہو۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ زبانیں جن میں ہم نے حضرت رسول اکرم علی کے کلام کے ترجمے کئے ہیں اس سے پہلے ان کا تیسرا حصہ بھی ترجمہ نہیں ہوا اور بھاری آبادیاں ہیں دنیا کی جو کلام محمد مصطفی علیہ سے نا آشنا ہیں۔قرآن کریم اس کی نسبت کئی گنا زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے لیکن آج بھی غیر قوموں میں قرآن کریم کی اشاعت کا کام اتنا تشنہ ہے، اتنے خلا ہیں اس میں کہ جب نظر پڑتی ہے کہ کس طرح عیسائیوں نے بائبل کو دنیا میں پہنچایا ہے تو شرم سے انسان غرق ہو جاتا ہے۔انسانی وجود کا، غیرت اسلامی کے وجود کا انگ انگ دکھنے لگتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے پیغام کو بگڑنے دیا اور تو حید کو شرک میں تبدیل کر دیا ان کو تو اتنی محبت ہے اس بگڑے ہوئے پیغام سے بھی کہ آج دنیا کی تقریبا نو سو زبانوں میں وہ بائبل مکمل یا اس کے ایک حصے کا ترجمہ کر کے پیش کر چکے ہیں اور ہم ہیں جو ایک سو بیس کی باتیں کر رہے ہیں اور اللہ کا فضل ہے اس کا شکر ادا کرتے ہیں لیکن گزشتہ چودہ سو سال میں ایک سو میں تو چھوڑیں بمشکل ساٹھ زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم دنیا کے سامنے پیش کئے گئے اور وہ بھی بدقسمتی سے بعض زبانوں میں تو غیر معمولی شان کے ساتھ اور کثرت کے ساتھ اس میں کوئی شک نہیں لیکن بہت سی ایسی زبانیں ہیں ان میں سے جن میں ایک دفعہ ترجمہ شائع ہوا پھر نظر سے غائب ہو گیا اور کسی نے مڑ کے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ترجمہ اس لائق بھی ہے کہ قرآن کریم کا پیغام صحیح معنوں میں دنیا کو پہنچا سکتا ہے۔آج ایسے تراجم تو ہیں جو روی زبان میں مثلاً جو گزشتہ صدی میں یا اس سے پہلے کئے گئے یا چند سال پہلے بھی کئے گئے تو گزشتہ صدی کی زبان میں کئے گئے۔اس مولویانہ ذہنیت کے ساتھ کئے گئے کہ ترجمہ اس طرح کرو کہ پڑھنے والے کے پلے کچھ نہ پڑے اور تم یہ کہہ سکو کہ ہم نے عربی کی لفظاً لفظاً تقلید کی ہے جہاں نقطہ تھا وہاں نقطہ ڈال دیا ہے جہاں حرف تھا وہاں حرف ڈال دیا اور یہ ہم نے ترجمے کا حق ادا کر دیا ہے۔قرآن کریم تو ایک پیغام