خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 120
خطبات طاہر جلد ۸ 120 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء گیا ؟ عیسائی مارے گئے یا یہودی مارے گئے یاد ہر یہ مارے گئے؟ سوائے مسلمانوں کے اور کوئی نہیں مارا گیا۔یاسنی مسلمان مارا گیا ہے یا شیعہ مسلمان مارا گیا ہے اور اس کے مقابل پر سعودی عرب اور عراق اور دیگر ہمدرد عرب ممالک کی جو دولت خرچ ہوئی ہے اس جنگ کو سہارا دینے میں وہ سب اس کے علاوہ ہے۔میں نہیں اندازہ لگا سکتا اُس کے اعداد و شمار نہیں ہیں لیکن بے انتہا روپیہ ہے اور تقریباً تمام تر تیل کی دولت ہے جو مغربی دنیا میں کوڑیوں کے بھاؤ چلی گئی۔اب یہ دشمن کس بات کے ہیں پھر۔مارے گئے تو مسلمان مارے گئے ، اختلافات ہوئے تو اسلامی دنیا میں ہوئے۔جو کچھ مظالم ہوئے وہ مسلمان نے مسلمان پر توڑے۔ساری دنیا میں اسلام کی بدنامی کے سامان پیدا کر کے آپ کے حضور پیش کئے اور ابھی آپ کا انتقام ختم نہیں ہو رہا۔اس لئے دراصل یہ انتقام اُس انا کے کچلنے کے نتیجے میں ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے اور اس چیز کو یہ معاف نہیں کر سکتے۔اس لئے خمینی نے جو کچھ بھی کیا ہے اس سے مجھے اختلاف ہے کیونکہ اس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، اپنی قوم پر ظلم کیا ہے، عالم اسلام پر ظلم کیا ہے لیکن یہ بات ضرور کہنی پڑتی ہے کہ اُس نے جو کچھ بھی سمجھا ، جس کو باطل سمجھا اُس کے سامنے سر نہیں جھکایا اور یہ وہ تکلیف ہے جو شاید صدیوں میں کبھی ان کو محسوس نہ ہوئی ہو اس شدت کے ساتھ جیلسی (Jelicy) اب محسوس ہوئی ہے۔اس لئے ان کو یہ معاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔چنانچہ جب خمینی صاحب نے اس خبیثا نہ کتاب کے اوپر سلمان رشدی کے قتل کا حکم جاری کیا تو ان کا رد عمل غیر متوازن اور نہایت ہی شدید تھا۔ایک تو اسلام کو بدنام کرنے کا موقع ان کو ہاتھ آ گیا دوبارہ لیکن اُس سے قطع نظر اُنہوں نے ساری دنیا میں شور مچایا کہ انسان کی تقریر کی آزادی کا حق اتنی بڑی عظمت ہے تہذیب نو کی کہ ہم اس پر حملہ برداشت نہیں کر سکتے۔کون ہوتا ہے زبان کے چرکوں کے نتیجے میں جسم پر چر کے لگانے والا اور پھر اعلان کر رہا ہے ہمارے ملک کے ایک باشندے کے خلاف۔اب سلمان رشدی کے حق میں اتنا شدید ردعمل کہ اچانک سارا یورپ متحد ہو جائے اور امریکہ کی پوری طاقت بھی اس کی پشت پناہی کرنے لگے اور اپنے سیاسی سفارتکار ان ملکوں سے اچانک بلالیں اور ان کے سفارتکار بھجوا دیں۔یہ سوچنے والی بات ہے کون سی اس بات میں معقولیت ہے۔جبکہ خود ان کے اپنے ملک میں احمدیوں کے خلاف قتل کے اعلانات کئے گئے ، اخباروں میں چھپے اور میرے سر کی چالیس ہزار پاؤنڈ قیمت ڈالی گئی اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ابھی حال ہی میں ایک