خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 119
خطبات طاہر جلد ۸ 119 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء ناشکرے ہیں جو اُس بیچارے کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔اس نے وہ جنگ لڑی اور اتنا لمبا عرصہ تک لڑی جس کے نتیجے میں تمام عرب دنیا کی اور ایران کی تیل کی دولت یعنی مسلمان دنیا کی تیل کی طاقت اُس کا اکثر حصہ کہنا چاہئے وہ بیہودہ اور ذلیل ہتھیاروں کے بدلے میں ان کو ملتی رہی دولت ، طاقت نہیں کہنا چاہئے تیل کی دولت۔اسلامی دنیا کے تیل کی دولت مغربی دنیا کو بعض بوسیدہ اور گھٹیا ہتھیاروں کے بدلے عملاً مفت ملتی رہی ہے۔میں جب یہ کہتا ہوں تو علم کی بنا پر کہہ رہا ہوں۔بہت سے ایسے ہتھیار ہیں جو ہر روز فنی ترقی کی وجہ سے پرانے ہوتے چلے جارہے ہیں۔پرانے زمانوں میں پچاس پچاس سال کے بعد ایسے دور آتے تھے کہ بعض ہتھیاروں کی کھیپ پرانی ہو کر رد کر دی جایا کرتی تھی۔اب تو بعض دفعہ ایک سال میں دو دفعہ ایسے واقعات ہو جاتے ہیں تو وہ سارے ہتھیار جو ماڈرن وار فیئر (Modern War Fair) کے لئے جدید حربی فن کے لئے مد مقابل کے خلاف مؤثر طور پر استعمال نہ ہو سکتے ہوں۔مثلاً روس نئی ایجادات کر چکا ہے اُس کے لئے پرانی رائفلیں کہاں کام آ سکتی ہیں یا پرانے زمانے کے ٹینک کہاں استعمال آسکتے ہیں، پرانے زمانے کے جہاز کیسے کام آ سکتے ہیں؟ تو یہ ساری چیزیں عموماً یا غرق کر دیا کرتے تھے سمندروں میں اور یا جہاں امکان موجود ہو کوئی توڑ پھوڑ کر کے ان کو دوبارہ استعمال کیا جائے اس میں کافی خرچ کر کے اس کو دوبارہ استعمال کرنا پڑتا تھا۔یہ سارا لچر ہتھیاروں کا گند، یہ تیل کے بدلے بیچتے رہے ان ممالک کو۔اتنا بڑا خمینی ان کا محسن ثابت ہوا کہ امریکہ کا جو Deficit آپ جانتے ہوں گے آجکل خبریں آتی رہتی ہیں۔سالانہ Deficit جس کے اوپر کہتے ہیں کہ بہت ہی بڑے خسارے کے اعداد و شمار ہیں وہ ایک سو تہتر بلین بنتا ہے۔ایک سو تہتر بلین ڈالر اور یہ Mind Bogling یعنی دماغ کو ماؤف کرنے والی رقم ہے انسان اس کا تصور نہیں کر سکتا۔بلین کتنی بڑی رقم ہوتی ہے اُس کو آپ ڈالروں میں تقسیم کریں اُس کے آپ پاکستانی روپے بنا ئیں تو کئی سڑکیں یہاں سے چاند تک اور واپسی بھی بن سکتی ہیں ان روپوں سے۔ایران نے صرف ایران نے اس جنگ میں جو روپیہ خرچ کیا ہے اور زیادہ تر مغرب سے ہتھیار خرید نے پر خرچ کیا ہے اُس کی مقدار چار سو بلین ہے۔یعنی امریکہ کے سال ہا سال کے جمع شدہ خسارے کے مقابل پر دوگنی سے بھی زیادہ ، اڑھائی گنا کے قریب۔یہ پیسے کہاں گئے کن لوگوں کے پاس گئے ؟ انہی ترقی یافتہ قوموں کے پاس جنہوں نے ہتھیار دیئے اور ان ہتھیاروں سے کون مارا