خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 121
خطبات طاہر جلد ۸ 121 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء so called عالم یعنی جو عالم کہلاتے ہیں دنیا میں وہ تشریف لائے اور انہوں نے بیان دیا کہ ہر احمدی واجب القتل ہے۔اس لئے ان کا علاج صرف یہی ہے کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے۔وہ اخبار میں خبر شائع ہوئی۔کسی احمدی نے ہوم آفس کو بھجوائی اُن کی طرف سے جواب آیا کہ ابھی تک ہم اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا کوئی جرم انہوں نے کیا ہے یا نہیں کیا۔جس قوم کے ان اعلانات پر یہ رد عمل ہو جو ان کے ملک میں ایک آدمی کے خلاف نہیں بلکہ پوری جماعت کے خلاف دیئے جارہے ہیں جو معصوم ہے جس نے کوئی بدی نہیں کی ، کوئی قانون نہیں تو ڑا ، کسی کا دل نہیں دکھایا اُن کا رد عمل خمینی کے متعلق اتنا شدید کہ اُس نے قتل کا فتویٰ دے دیا ہے یہ صاف بتا رہا ہے کہ سیاست کھیلی جارہی ہے۔اس میں اخلاقیات والا حصہ اور ضمیر کی آزادی والا حصہ محض ایک دکھاوا ہے۔کچھ انتقامات ہیں، کچھ پرانے جذبے اسلام کے خلاف ہیں، کچھ نفرتیں ہیں جو نئی شکل میں سر اٹھاتی رہتی ہیں اور اب اس شکل میں اس پرانی دیرینہ نفرت نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے اور ثمینی صاحب اس کو انگیخت کرنے میں ایک ذریعہ بن گئے۔۔قرآن کریم دفاع کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ ہر مسلمان پر واجب قرار دیتا ہے اور ہر سرحد پر گھوڑے باندھنے کی تلقین کرتا ہے۔خواہ وہ نظریاتی سرحد ہو، خواہ وہ جغرافیائی سرحد ہو لیکن اسلام بعض قسم کی جوابی کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتا اور بعض قسم کے حملوں کی اجازت نہیں دیتا۔اُن میں سے ایک یہ ہے کہ کسی کے بزرگوں کے اوپر حملہ کیا جائے، کسی کا دل دُکھایا جائے۔چنانچہ وہ آیت جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے یہ اصل اسلامی تعلیم ہے۔فرمایا وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ یعنی آزادی تقریر اپنی جگہ ہے۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقره: ۲۵۷) کا حکم اپنی جگہ ہے لیکن مسلمان کی زبان پر پابندی لگارہا ہے، اسلام اور غیروں پر حملے کرنے کے لحاظ سے پابندی لگا رہا ہے۔اس مذہب کو یہ ایک آمرانہ اور بہیمانہ مذہب کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی جرات کرتے ہیں۔کوئی شرم، کوئی اخلاقی اقدار کا خیال تک نہیں ہے۔ان کو ان کے مستشرق جو واقعہ اسلام کے نفلی علوم پر دسترس کرتے ہیں اُن کے سامنے ساری باتیں موجود ہیں۔قرآن جانتے ہیں، قرآن کے تراجم کئے ہوئے ہیں ان لوگوں نے لیکن اس آیت کو یہ کبھی بھی اسلام کے دفاع میں پیش نہیں کریں گے۔