خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 827
خطبات طاہر جلدے 827 خطبه جمعه ۹ / دسمبر ۱۹۸۸ء چاہئے ، اردو میں مطالعہ کہتے ہیں سب سے اہم مطالعہ تقویٰ کا ہونا چاہئے کیونکہ تقومی سارے دین کی جان ہے اور تقویٰ خود اس وحدت کا نام ہے جو دینی علوم بالآخر اختیار کرتے ہیں۔کوئی دینی علم ، کوئی دینی علم کا شعبہ ایسا نہیں جو بالآخر آپ کو تقویٰ تک نہ پہنچائے اور تقویٰ آپ کو لازماً وحدت کی طرف لے کر جاتا ہے اور جوں جوں تقوی ترقی کرتا ہے غیر اللہ کے تمام نشان مٹاتا چلا جاتا ہے اور بالآخر خدائے واحد کے سوا اور کوئی چیز کا ئنات میں باقی نہیں رہتی۔اس لحاظ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقویٰ پر اتناز ور دیا ہے کہ جہاں تک میر اعلم ہے تمام گزشتہ علماء اور فقہاء نے مل کر بھی تقویٰ پر اتنا زور نہیں دیا جتنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اتنی (۸۰) سے کچھ زائد کتب میں تقویٰ کے مضمون پر زور دیا اور بار بار اس کو مختلف پہلوؤں سے جماعت کے سامنے رکھا۔میں تقویٰ کے سلسلے میں آج ایک خاص نقطہ نگاہ سے دو تین امور آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔تقویٰ ایک تو وہ ہے جو دینی علوم کے مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے اور ایک تقویٰ وہ ہے جو انسانی فطرت میں نقش کر دیا گیا ہے اور اس تقویٰ کے حوالے کے بغیر آپ اگلا سفر نہیں کر سکتے۔اس لئے جب تک پہلے آپ کے دل کے اندر تقویٰ پیدا نہ ہو یعنی دل کا تقویٰ آپ کو معلوم نہ ہو کہ وہ کیا ہے اور جب تک آپ اس دروازے سے اگلی راہ میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں تقویٰ کی تمام را ہیں آپ پر بند رہیں گی۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ ہر ذی روح کو ہم نے تقویٰ بخشا اور اس کے ساتھ اس کے فجور کی راہیں بھی اس پر روشن کر دیں۔جیسا کہ فرمایا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوبَهَا ( امس: و) ہم نے ہر ذی روح پر ، ہر نفس پر تقویٰ کا بھی الہام کیا اور اس کے فجور کا بھی الہام کیا۔یعنی ہر ذی روح کی فطرت میں تقویٰ کی راہیں بھی نقش کر دی گئیں جو انمٹ ہیں اور فجور کا علم بھی نقش کر دیا گیا جو انمٹ ہے۔اس پر انسان مخصوص اور الگ نہیں ہے بلکہ دراصل انسان کو تقویٰ کے جس مقام تک خدا نے پہنچایا ہے اس کے لئے ایک بہت لمبا تیاری کا سفر تھا جو حیوانی زندگی کے ذریعے انسان نے اپنی ادنیٰ حالتوں میں اختیار کیا اور پھر جب انسان کے مقام پر زندگی پہنچی تو اس وقت تک یہ تقویٰ نہ صرف گہرے طور پر نقش تھا بلکہ ترقی کرتا رہا ہے اور وسیع تر ہوتا چلا گیا ہے اور اس کو عام دنیا کی اصطلاح میں عقل کہا جاتا ہے اور عقل اور سچائی ان دو کا جو جوڑ ہے ان دو کا ایک دوسرے کے ساتھ جو گہرا رابطہ ہے اور ایک دوسرے سے ترقی کرتے ہیں یہی