خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 826
خطبات طاہر جلدے 826 خطبه جمعه ۹ر دسمبر ۱۹۸۸ء مادی دنیا کے مشاہدے کے علوم ہیں ایک علم دوسرے کے اندر سرایت کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور کوئی مادہ بھی بعینہ کسی ایک مضمون سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ہر مادہ فزکس کے بعض مظاہر بھی اپنے اندر رکھتا ہے اور کیمسٹری کے بعض مظاہر بھی اندر رکھتا ہے اور ضروری نہیں کہ بیالوجی کے بعض مظاہر اپنے اندر رکھے لیکن بعض مادے بیالوجی کے بعض مظاہر بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔لیکن جوں جوں آپ ان علوم میں ترقی کرتے چلے جائیں آپ یہ محسوس کرتے چلے جاتے ہیں کہ ایک کا دوسرے سے تعلق زیادہ گہرا اور اٹوٹ ہے یہاں تک کہ آخری سطح پہ جا کر ہر چیز ایک دکھائی دینے لگتی ہے۔آئن سٹائن نے جو فیلڈز کی وحدت کا تصور پیش کیا اور جس پر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے بھی بہت کام کیا وہ بھی دراصل اسی وحدت کے تصور کا ایک اظہار ہے۔مختلف علوم کی وہاں بحث نہیں کی گئی لیکن یہ بحث اٹھائی گئی ہے کہ دنیا میں چار بنیادی طاقتیں ہیں جن سے تمام علوم پیدا ہوتے ہیں یعنی وہ چونکہ محرکات ہیں اور تمام کائنات میں وہ چار قو تیں ایسی ہیں جن کے آپس کے رد عمل سے یا مادے کے ساتھ ان کے رد عمل کے نتیجے میں مختلف چیزیں ظہور میں آتی ہیں۔تو کائنات کے جتنی بھی مناظر ہیں مادے کی جتنی بھی شکلیں اور ان کی طرز عمل ہیں وہ ساری چیز میں ان چار قوتوں کے ساتھ متعلق ہوتی ہیں اور یہ چار قو تیں سائنسدانوں کے نزدیک دراصل چار نہیں بلکہ ایک ہی قوت کے مختلف مظاہر ہیں۔تو بالآخر تو حید کامل تک انسان پہنچ جاتا ہے اور کسی زاویہ نظر سے بھی مشاہدہ کریں کائنات کا ، خدا کی مخلوقات کا بالآخر تو حید تک پہنچنا ایک لازمی امر ہے۔ان کو ابھی رستے معلوم نہیں ہو سکے کہ چار قوتوں کے تین ہونے کی سمجھ تو آچکی ہے، تین کے دو ہونے کی ابھی نہیں آئی۔دو ایک کیسے سمجھی جائیں گی اس کا بھی ابھی تک پتا نہیں چلا لیکن یہ یقین ہے کہ آخری صورت میں ایک ہی قوت ہے جو کارفرما ہے باقی سب اس کے مختلف مظاہر ہیں۔دینی علوم میں بھی یہی حال ہے۔دین کی ہر شاخ ، دین کا ہر پہلو اگر آپ نظر غائر سے دیکھیں، تدبر اور فکر کی نگاہ سے غور کریں تو وحدت کی طرف لے کر جاتا ہے اور اس میں بھی مختلف منازل آپ کو دکھائی دیں گی مختلف مقامات ہیں اور درجے ہیں۔جوں جوں کوئی دینی علم یا کسی دینی شعبہ کے علم کا آپ کو زیادہ ادراک ہوتا چلا جائے گا، زیادہ گہری نظر عطا ہوتی چلی جائے گی۔آپ یہ دیکھیں گے کہ وہ آپ کو دراصل توحید کی طرف لے کر جا رہا ہے۔سب سے اہم Study کہنا