خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 828 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 828

خطبات طاہر جلدے 828 خطبہ جمعہ ۹ / دسمبر ۱۹۸۸ء مضمون ہے جو انسانی زندگی تک پہنچ کر خوب کھل کر روشن ہو جاتا ہے۔حیوانی زندگی میں بھی یہ مضمون کارفرما ہے لیکن باشعور طور پر نہیں۔سوائے بعض استثنائی مثالوں سے ان صورتوں میں بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کے بالا رادہ طور پر کسی جانور نے جھوٹ بولا ہے مگر حیوانی دنیا میں آپ کو بعض استثنائی صورتوں کے جہاں جھوٹ کا دھوکا معلوم ہوتا ہے جانوروں کی دنیا میں آپ کو کہیں جھوٹ دکھائی نہیں دے گا اور جانوروں کی دنیا میں جو تقویٰ ان کی فطرت پر رسم ہے، خدا تعالیٰ کی طرف سے مرتسم ہو چکا ہے اس کی مثالیں زندگی کے ہر شعبے میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں اور بے انتہا ہیں۔تقویٰ سے مراد ہے ( یہاں اس اصطلاح میں ) کہ جو چیز تمہارے لئے بہتر ہے اس کو اختیار کرو جو چیز تمہارے لئے بد ہے اس کو چھوڑ دو۔جو چیز تمہارے لئے مفید ہے اسے لے لو، جو چیز تمہارے لئے مضر ہے اس سے اجتناب کرو۔اب آپ یہ دیکھیں کہ بیشمار زندگی کی قسمیں ہیں جن میں جراثیم ہی اتنی زیادہ قسموں کے ہیں کہ ان کا کوئی آپ شمار نہیں کر سکتے اور اسی طرح Insects ہیں ان کی بیشمار قسمیں اور بے حساب ان کے اندر ہر قسم میں اندرونی تبدیلیاں ہیں یہاں تک کہ پھر Individual یعنی ایک شخصیت ایک علیحدہ حیثیت سے ابھرتی ہے۔ان سب پر قرآن کریم کی اس آیت کا بلا استثناء اطلاق ہوتا ہے۔ان میں سے ہر ایک کو معلوم ہے کہ میرا اتقویٰ کیا ہے اور میر انجو رکیا ہے۔پہلے دن جو بلخ کا بچہ تالاب میں نکلتا ہے اس کو بھوک لگتی ہے اور وہ منہ مارتا ہے چیزوں پر لیکن کس چیز نے اس کو سمجھایا ہے اور بتایا ہے کہ کون سی چیز کھانی ہے اور کون سی نہیں کھانی۔وہ بھوکا ہے اس سے زیادہ اس کو کچھ پتا نہیں لیکن از خود وہ جو چیزیں اس کے لئے مفید ہیں ان کو پکڑتا چلا جاتا ہے، جو چیزیں مفید نہیں ان کو رد کرتا چلا جاتا ہے۔یہاں تو پھر بھی دماغ کا شبہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ کچھ نہ کچھ دماغ تو ہے اگر چہ اس دماغ کی کوئی تربیت نہیں ہوئی کمپیوٹر ہے بغیر پروگرام کے۔سوائے اس کے کہ جو پروگرام اس کے اندر داخل ہے اس پروگرام کو سکھانے والا اور اس کو استعمال کرنے والا باہر کا کوئی وجود نہیں ہے جس نے اس کی تربیت کی ہو۔ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے اس کو اپنی غذا کا ، میرے لئے کون سی چیز مفید ہے کون سی نہیں مفید اس کا علم ہوتا ہے لیکن وہ چیزیں جن کا دماغ ہی کوئی نہیں ہے مثلاًا Worms ہیں۔بعض کیڑے مکوڑے ہیں جو صرف ایک لوتھڑ ا سا ہیں اور ان کے اندر یوں معلوم ہوتا ہے کہ سوائے معدے کے نظام کے کوئی