خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 786 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 786

خطبات طاہر جلدے 786 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء سبقت کا مضمون پیچھے چھوڑ کر اس دعا کو زیادہ وسیع فرما دیا اور فرمایا وہ یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! ہمارے دل میں کسی ایمان لانے والے کے متعلق کوئی بغض، کوئی بھی پیدا نہ ہو ، کوئی کینہ پیدانہ ہو۔صرف یہی نہیں کے جو پہلے بڑھ گئے ہیں یا آگے نکل گئے ہیں بلکہ ہر شخص جو ایمان لاتا ہے وقت کے منادی کرنے والے پر اس کے متعلق ہم تجھ سے یہ التجا کرتے ہیں کہ ہمارے دل میں غل نہ پیدا ہونے دینا، کسی قسم کا بغض نہ پیدا ہونے دینا۔اس دعا کے نتیجے میں وہ سوسائٹی ابھرتی ہے، وہ معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں مومن دوسرے مومن سے بھائی کی طرح محبت کرنے لگتا ہے اور وہ دعائیں بھی قرآن کریم میں بیان ہیں، وہ مضمون بھی الگ بیان ہیں لیکن یہ وہ ابتدائی منزل ہے جس سے دل اس حد تک صاف ہو جاتا ہے کہ پھر اس پر بھائی کی محبت کا نقش جم سکتا ہے۔اگر غل پیدا ہو جائے تو ایسے دل پر پھر کوئی محبت کا نقش نہیں جم سکتا۔تو یہ آیت دل کی صفائی سے اور تزکیہ سے تعلق رکھتی ہے۔اس کے بعد پھر دوسری قرآن تعلیم آپ کے دل پر نئے نئے حسین نقش جمائے گی اور آپ کو اپنے مومن بھائیوں کے لئے اپنے دلوں میں بے انتہا محبت محسوس ہو گی۔تو یہ دو فصیحتیں ان کے لئے ہیں جو کسی قسم کے غل کا رجحان اپنے بھائیوں کے لئے رکھتے ہیں۔اللہ ان کی دانشوری کو صحیح رستوں پر چلائے اور انہیں وہ عرفان نصیب کرے جو حقیقی دانشوری ہے کیونکہ دانشوری صرف عقل کا نام نہیں ہے ، دانشوری عرفان کا نام ہے حقیقت میں اور اس کے نتیجے میں عقل کے ساتھ دل کا تعلق قائم ہو جاتا ہے اور اس میں ایک لذت پیدا ہو جاتی ہے۔دوسرا میں نے بالعموم بعض کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ کمزوریاں بیرونی معاشرے سے لازماً ہمارے معاشرے میں سرایت کرنے کا رجحان رکھتی ہیں اور ہمیں ان کے خلاف ایک عظیم الشان جہاد کرنا چاہئے۔کچھ منتظمین کو مخاطب کر کے یہ باتیں سمجھائی تھیں اور کچھ افراد کو مخاطب کرتے ہوئے سمجھانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔میں اب وقت کی رعایت سے ایک بات آج کہنا چاہتا ہوں کہ جس طرح لفظ فر استعمال ہوا مضمون کے تعلق میں ایک اور اسی لفظ کا ایک استعمال قرآن کریم میں ہمیں ملتا ہے اور وہ منفی معنوں میں نہیں بلکہ مثبت معنوں میں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَفِرُّوا اِلَى الله (الذاریات: ۵۱) تم اللہ کی طرف فرار اختیار کرو۔فرار کس چیز سے ہوتا ہے؟ فرار ہمیشہ خوف سے پیدا ہوتا ہے۔عربی میں جو لفظ فرار ہے اس کے ایک طرف خوف کا عصر پایا جاتا