خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 785 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 785

خطبات طاہر جلدے 785 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے الَّذِيْنَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ کہ جوایمان میں ہم پر سبقت لے گئے ہیں۔ایک گروہ وہ ہے جس کی یہ حالت ہے کہ بجائے اس کے کہ ان سے نفرت کریں یا جلیں یا ان کی نیکیوں پر طیش کھائیں کہ ان کو کیا تو فیق مل رہی ہے یہ کیا اپنے طرف سے بڑے خدمت گار بنے ہوئے ہیں وہ ان کی نیکیوں کو ان کی کوششوں کو دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں بھی بخش اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے۔بخشنے کا کیا سوال پیدا ہوا ہے؟ بخشے کا تعلق غلطی سے ہے۔معلوم ہوتا ہے ان کی تربیت حضور اکرم ﷺ نے ایسی فرمائی تھی کہ جب وہ دوسرے کی غلطی دیکھتے تھے تو اس غلطی کو نفرت اور تنقید کی نظر سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس سے ذہن اس طرف منتقل ہو جاتا تھا کہ ان سے بھی غلطیاں ہو رہی ہیں جو ہم سے پہلے تھے ایمان میں تو ہم سے کیوں نہ ہوئی ہوں گی۔ہم تو بعد میں آنے والے ہیں اس لئے ہم ہو سکتا ہے ان سے بڑھ کر غلطیوں میں مبتلا ہوں۔تو کسی کی غلطی دیکھ کر ان کا دل استغفار کی طرف مائل ہوتا تھا اپنے لئے بھی اور ان کے لئے بھی۔سبقونا کا مضمون دو باتیں ظاہر کرتا ہے۔ایک وہ جو ان آیات کے سیاق وسباق سے ظاہر ہورہا ہے کہ زمانے کے لحاظ سے پہلے تھے اور ایک دوسرا مضمون ہے جو مستقلاً لفظ سبق میں داخل ہے اور وہ ہے سبقت لے جانا، آگے بڑھ جانا۔تو اس دعا کو ان دونوں مفہوموں کو سامنے رکھ کر کرنا چاہئے۔یہ دعا صرف ان لوگوں سے تعلق میں نہیں ہے جو زمانے کے لحاظ سے پہلے تھے بلکہ ان لوگوں سے تعلق میں بھی ہے جو نیکیوں میں کسی لحاظ سے سبقت لے جا رہے ہیں اور چونکہ قرآن کریم نے حسد کے خلاف تعلیم دی ہے اور حسد رشک کی بگڑی ہوئی صورت ہوا کرتی ہے۔رشک پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔اس لئے قرآن کریم چونکہ بار یک بیماریوں کا بھی علاج رکھتا ہے قرآن کریم نے اس طرف توجہ دلا دی کہ اس کا علاج یہ ہے کہ پہلے اس کے کہ یہ معاملہ بڑھے اور رشک حسد میں تبدیل ہو تم یہ دعا کیا کرو کہ اے اللہ ! ہمیں بھی بخش ہم تو بعد میں ہیں یہ لوگ تو ہم سے سبقت لے گئے ہیں اور ان سے بھی غلطیاں ہو رہی ہیں ان کو بھی معاف فرمادے تو جو شخص اپنے کسی بھائی کی غلطی پر اس کی معافی کی دعا کر رہا ہورات کی تنہائی میں اکیلے بیٹھ کر اس سے وہ بغض کیسے کر سکتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ اس مضمون کو مزید کھول دیا۔فرمایا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلَّا لِلَّذِينَ آمَنُوا یہاں