خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 787
خطبات طاہر جلدے 787 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء ہے۔کسی چیز سے بدک کر، دوڑ کر، گھبرا کر دوسری طرف بھا گنا۔اب لفظ فرار بتا رہا ہے کہ تقویٰ کا اصل معنی یہ ہے۔اگر تقویٰ کا مطلب خدا کا خوف ان معنوں میں ہو جو ہم عام معنوں میں خوف کے معنی سمجھتے ہیں تو پھر خدا سے دوڑنا چاہتے لیکن تقوی خدا کی طرف دوڑنے کا نام ہے اور کسی اور کے خوف کے نتیجے میں خدا کی پناہ میں آنے کو تقویٰ کہتے ہیں۔بچنا خدا سے نہیں بلکہ خدا کی گود میں آکر بچنا، خدا کی حفاظت میں آکر بچنا اور وہ ہے گناہوں سے دوڑنا، گناہوں سے فرار اختیار کرنا۔گناہوں سے فرار اختیار کرنے کے دو طریق ہیں۔ایک تو یہ کہ آپ گناہ کو اس لئے ترک کر رہے ہیں کہ آپ کو معلوم ہے کہ گناہ ہے، اللہ تعالیٰ نا پسند کرتا ہے اور آپ اس گناہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔یہ جو طریق ہے یہ ثواب کے لحاظ سے تو اچھا ہے لیکن مشکل بہت ہے اور مسلسل انسان ایک جدوجہد میں مبتلا رہتا ہے اور مصیبت میں مبتلا رہتا ہے۔ایک چیز اچھی لگ رہی ہے اور آدمی کہتا ہے نہیں خدا کی خاطر چھوڑنا ہے۔ہر وقت اپنے نفس کی ایک خواہش کا انکار اس کے ساتھ جاری رہتا ہے اور ایسے لوگ پھر جب اکثر دعا کے لئے حالات اپنے لکھتے ہیں تو بہت پریشانی میں مطلع کرتے ہیں کہ گناہ ہم چھوڑتے ہیں خدا کی خاطر ، جدوجہد کرتے ہیں ، روتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں پھر اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں پھر دوبارہ یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے پھر اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔تو اگر اخلاص کے ساتھ یہ جدوجہد کی جائے تو بالآخر ایک لمبی تکلیف کے دور سے گزر کر انسان اس سے نجات پا جاتا ہے۔یہ کوئی نا کام رہنے والا طریق نہیں ہے لیکن مشکل رستہ ہے۔ایک اور طریق یہ ہے کہ گناہ کا عرفان پیدا کریں۔گناہ کا بھی ایک عرفان ہوا کرتا ہے۔گناہ کا شعور پیدا کریں اور اپنے خیالات میں، اپنے تفکرات میں بلوغت پیدا کریں۔اب ایک خوبصورت رنگوں کا سانپ کسی بچے کو اچھا لگتا ہے، آپ کو بھی اچھا لگ رہا ہوتا ہے لیکن اگر وہ سانپ زہریلا ہو اور خطرناک ہو تو ایک بالغ نظر انسان بعض دفعہ اس رنگ سے ہی متنفر ہو جاتا ہے جو ایک سانپ کے اوپر یہ دلکشی پیدا کر رہا ہے۔یعنی ایسا رد عمل ہوتا ہے کہ بعض رنگوں کو بعض زہروں سے تعلق کی بنا پر انسان نا پسند کرنے لگ جاتا ہے اور بعض دفعہ لاشعوری طور پر ایسے رنگوں سے بھی الرجی پیدا ہو جاتی ہے۔ایسے نظارے اور ایسا رنگ طبیعت میں ایسار د عمل پیدا کرتے ہیں کہ انسان بیمار پڑ جاتا ہے۔یہ ایک بڑا وسیع تجربے کا مضمون ہے لیکن بچہ بیچارہ اس کو یہ تو پتا ہے کہ خوبصورت چیز ہے وہ