خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 784
خطبات طاہر جلدے 784 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء اس بیماری کی نشاندہی بھی فرما دی ہے کہ روحانی اصطلاحوں میں مجذ وم ہوتا کون ہے۔پس اگر ایسے دانشور اپنے قدم وقت پر نہیں روکیں گے تو میں ان کو متنبہ کرتا ہوں کہ ان کی بیماری بڑھ کر جذام میں داخل ہو جائے گی اور پھر اس کا علاج کوئی نہیں ہے۔پھر یہ زندگی بھر ساتھ رہتی ہے اور جس طرح کوڑھی کا ظاہری بدن بیماری کے نتیجے میں بدصورت ہوتا چلا جاتا ہے اور بدشکل ہوتا چلا جاتا ہے اور لوگ اس سے بھاگتے ہیں طبعا اسی طرح ایسا بیمار جو روحانی طور پر مجزوم ہو جائے اس سے خدا کے نیک بندے واقعہ بھاگتے ہیں۔اسے سوسائٹی میں چھوڑ دیا جاتا ہے اس سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں ایسی نفرت جو بے اختیار ہے جو سوچ کر نہیں کی جاتی لیکن یعنی لوگ پسند نہیں کرتے کہ ایسے شخص کی مجلس میں بیٹھیں۔پس جو اس حد تک پہنچ جاتے ہیں جواڑوں کے سردار بن جاتے ہیں وہ چونکہ جذام پھیلانے لگتے ہیں اس لئے وہ نوجوان نسلیں جو ان باتوں کو نہیں سمجھتیں ان کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ پھر ان لوگوں کے پاس نہ جایا کریں، ان کے پاس نہ بیٹھا کریں کیونکہ حضور اکرمیار نے فرمایا ہے فر من المجذوم فرارک من الاسد پھر ان کا مقدر یہی ہے کہ ان کو تنہا چھوڑ دیا جائے ورنہ یہ اس بیماری کو آگے لگائیں گے۔قرآن کریم نے ایک دعا سکھائی ہے۔یہ دوسری بات ہے جو میں ان کو سمجھانا چاہتا ہوں اس دعا سے استفادہ کریں اور جب دل میں کسی ایسے مومن بندے کے لئے نفرت پیدا ہو یا غصہ پیدا ہو جو کمزوریاں بھی رکھتا ہو گا لیکن فی الحقیقت ایمان لانے والا ہے اور ایمان لا کر خدمت دین میں مصروف رہنے والا ہے تو ایسے موقع پر دعا سے فائدہ اٹھائیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔قرآن کریم کی جس آیت کی میں نے تلاوت کی تھی اس میں یہی دعا مذکور ہے۔فرمایا وَالَّذِينَ جَاءُ وَ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا کہ وہ لوگ جو انصار اور مہاجرین کے بعد آئے کیونکہ پہلا جو مضمون ہے یہ انہی کا بیان ہو رہا ہے یعنی جنہوں نے براہ راست حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ویسی صحبت نہیں پائی جیسی مہاجرین اور انصار کو نصیب ہوئی۔ان لوگوں کو کیا کرنا چاہئے۔ان میں سے بعض ایسے ہیں جو یہ کرتے ہیں یہ خدا بیان فرما رہا ہے اور آنحضور علیہ کی تربیت کے نتیجے میں وہ یہ پہلے سے دعا کر رہے ہیں۔وہ دعا کیا ہے، يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ کہ اے ہمارے