خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 780
خطبات طاہر جلدے 780 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء آپ کے دل میں پیدا ہو جو خدا کی اس شان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جو اس وقت خدا دکھا رہا ہے تو اتنی غیر معمولی ایک دعا کی لہر آپ کے دل سے اٹھتی ہے کہ اس کی موجیں خدا کی رحمت کے پاؤں پر چھلکنے لگتی ہیں اور اسے نمدار کر دیتی ہیں اور ناممکن ہے کہ پھر وہ دعا نا مقبول ہو۔تو اگر ساری جماعت اسی طرح دعاؤں میں لگی رہے ، جماعت کے ہر فرد کے مختلف جذبات ہیں، مختلف کیفیات ہیں مختلف ان کی پاکیزگی کے حالات ہیں، مختلف خلوص کے حالات ہیں۔توحید کا عرفان بھی ہمیشہ ایک سانہیں رہا کرتا ، بعض اوقات توحید کا عرفان ایک خاص شان کے ساتھ انسان کے سامنے ابھرتا ہے، ایسے لمحات جب خدا کی کسی شان سے ہم آہنگ ہوتے ہیں تو اس دعا میں سے ایک عظیم قوت اٹھتی ہے اور دعا کرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ دعا نا مقبول نہیں ہوسکتی۔اس لئے بہت ہی ضروری ہے کہ ہر آدمی خواہ اپنے آپ کو چھوٹا سمجھے یا بڑا سمجھے یا عام دنیا کی نظر میں نیک ہو یا بد ہو دعاؤں میں مصروف رہے۔احادیث سے پتا چلتا ہے کہ بعض دفعہ بدوں کے دل سے بھی ایک ایسی دعا اٹھتی ہے جو خدا کی کسی شان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہے اور ان کی ساری عمر کی بدیاں ان کو جہنم میں دھکیلنے میں ناکام رہتی ہیں اور اس ایک لمحے کی دعا مقبول ہو جاتی ہے اور اس کی ساری زندگی کی بدیوں کے عذاب سے ان کو بچالیتی ہے۔تو حضرت اقدس محمدمصطفی ﷺ کا کلام بہت ہی عارفانہ کلام ہے، بہت ہی گہرا ہے اور اس کے مطالب کو سمجھنا چاہیئے۔اس لئے میں جماعت کو متوجہ کرتا ہوں کے دعاؤں میں مصروف رہیں اور دعاؤں کو ادلتے بدلتے رہیں ان کے رخ پلٹتے رہیں۔یہ بھی ایک قبولیت دعا کا مقام حاصل کرنے کے لئے ایک اچھا راز ہے۔اس کو سمجھنے سے آپ کو قبولیت دعا کا ایک اور فلسفہ سمجھ آجائے گا۔ایک ہی نہج پر ایک ہی طرز پر جس طرح طوطا بولتا ہے یا کوئی بچہ جس نے سبق رٹا ہو وہ سبق پڑھتا ہے اس رنگ میں اگر کوئی دعا کرتا چلا جائے تو ہو سکتا ہے اس کی ساری عمر کی دعا بھی بے معنی ہو۔اسی لئے وہ لوگ جو وظیفوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں بسا اوقات وہ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔وہ ان باتوں کی تلاش میں رہتے ہیں کون سا وظیفہ ملے جو کار گر ثابت ہو۔حالانکہ اصل وظیفہ وہ ہے جو دل کا تعلق خدا سے پیدا کر دے اور کوئی وظیفہ یہ کام نہیں کر سکتا جب تک اسے سمجھ کر غور کر کے اپنے دل پر طاری کر کے اسے ادا نہ کیا جائے اور دعاؤں میں بھی آپ کو اس طرح دعاؤں کو الٹنا پلٹنا چاہئے کہ آپ کے مزاج میں سے وہ روح نکالیں، آپ کے دل میں ایک گرمی پیدا کریں۔آپ کی فطرت میں وہ سوز عطا کر دیں جس کے نتیجے میں پھر