خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 779
خطبات طاہر جلدے 779 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء جہاں تک دعا کے لمحات کا تعلق ہے اس سلسلے میں بھی کچھ وضاحت پیش کرنا ضروری ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ دعا کا خاص لمحہ نصیب ہو۔وہ بھی دراصل مضمون کو الٹ دیتے ہیں۔جس طرح دن نہ نحوست پیدا کیا کرتا ہے نہ برکت پیدا کیا کرتا ہے۔دلوں میں پیدا ہونے والے واقعات نحوست بھی پیدا کرتے ہیں اور برکت بھی پیدا کرتے ہیں۔اسی طرح دعاؤں کے لمحے دلوں سے پیدا ہوتے ہیں کوئی بیرونی وقت کا اثر ہر گز نہیں جو دعاؤں کو مقبول لمحے عطا کرتا ہو۔کیفیات ہیں اور ان کیفیات کا تعلق خدا تعالی کی شان سے ہے۔قرآن کریم نے اس فلسفے کو اس طرح بیان فرمایا کہ : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن:۳۰) کہ خدا ہر لمحے اپنی ایک خاص شان میں ہے۔بعض لوگ اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ بعض خدا کی شانیں مقبولیت کی شانیں ہیں اور بعض نامقبولیت کی شانیں ہیں اور ہمیں مقبولیت والی شان نصیب ہو۔یہ بات درست نہیں ہے۔خدا کی ہرشان مقبولیت کی بھی ہو سکتی ہے اور غیر مقبولیت کی بھی ہو سکتی ہے۔مقبولیت کی اس وقت ہوگی جب آپ کے دل کی شان خدا کی شان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے۔جب آپ دنیا میں آپس میں معاملات کرتے ہیں تو جس انسان کے مزاج کو آپ سمجھتے ہوں اس کے مزاج کے لمحات کے مطابق اس سے بات کرتے ہیں اور اگر آپ اسے صحیح سمجھتے ہوں اور اچھی طرح خوب پہچانتے ہوں تو اس شخص کے مزاج کا ہر لمحہ آپ کے لئے مقبول لمحہ بن جاتا ہے۔اگر آپ کسی کا مزاج نہ سمجھتے ہوں اور اس کے مزاج کے کسی خاص لمحے کے برخلاف بات اس سے کریں اور اگر آپ بالکل نہ سمجھتے ہوں اور ہمیشہ مخالفانہ بات کریں تو آپ کی ہر بات اس کے حضور نا مقبول ٹھہرے گی۔ہم آہنگی ہے جو قبولیت دیا کرتی ہے۔اس لئے خدا کی شان کے مطابق جب ایک کثرت سے جماعت دعا میں مصروف ہو کسی نہ کسی کے دل کو وہ ہم آہنگی کالمحہ نصیب ہو جایا کرتا ہے اور وہی مقبولیت کی شان پیدا کیا کرتا ہے۔جس طرح سائنس کی دنیا میں لیزر بیم (Laser Beam) کا فلسفہ ہے کہ وہ مادہ جس کی Wavelength جس کی لہروں کے انداز ، ان کے فاصلے آپس میں ، ان کے زیر و بم کے طریق لیزر کی لہروں کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں تو اس سے ایک غیر معمولی ہر اٹھتی ہے جو عام لہروں سے اتنی بلند ہوتی ہے کہ اس کی کوئی نسبت ہی نہیں ہوا کرتی۔پس جب آپ کے دل کی کیفیت خدا کی کسی شان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے ، خاص ایسا جذبہ