خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 781 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 781

خطبات طاہر جلدے 781 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء دعاؤں میں قوت پیدا ہوتی ہے۔اس لئے دعاؤں کے رنگ بدلنے چاہئیں۔کبھی کسی رنگ میں کبھی کسی رنگ میں۔الٹ پلٹ کے دعاؤں کو مختلف رنگ میں اس طرح بیان کرنا چاہئے کہ آپ کو محسوس ہو کہ آپ کے دل میں اس کے ساتھ ایک خاص حرکت پیدا ہوئی ہے، ایک خاص گداز پیدا ہوا ہے۔محض رونا کوئی چیز نہیں ہے۔وہ کیفیات ایسے تجربے ہیں جو اچانک آپ کو نصیب ہوں گے۔کوشش کریں محنت کریں اور اپنے ذہن میں ایسے انداز سوچتے رہیں جس سے آپ کے دل میں گرمی پیدا ہو آپ کے مزاج میں ایک خاص قسم کا روحانی لطف پیدا ہو۔ایسی کوشش کے نتیجے میں پھر وہ لمحے آپ کو نصیب ہو سکتے ہیں جن کے نتیجے میں آپ کے دل کی شان خدا کی کسی شان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے اور پھر از خود اپنی قوت سے ایک دعا اٹھے گی جس کے لئے زور نہیں لگانا پڑتا۔وہ دعا ایسی دعا ہو گی جو خود بتائے گی کہ میں ایک خاص لمحے کی پیداوار ہوں یا میں وہ دعا ہوں جس نے یہ بچہ پیدا کیا ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو قبولیت کے عظیم الشان نشان دکھائے جائیں گے۔جہاں تک تربیتی مضمون کا تعلق ہے میں بیان کر رہا تھا کہ بعض دانشور ہوتے تو دانشور ہی ہیں یعنی جہاں تک انسانی پیمانوں کا تعلق ہے ان کی عقل، ان عقل کی جلا وغیرہ اور ان کے طرز فکر کو آپ ایک دانشوری کی طرز فکر اور دانشور کی عقل کی جلا کہہ سکتے ہیں لیکن میں نے قرآن کریم کی اصطلاح میں بیان کیا تھا کہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ دو قسم کے دانشور ہیں ایک وہ ہیں جن کی دانشوری اللہ کی محبت اور بنی نوع انسان سے تلطف اور رحمت کے نتیجے میں جلوے دکھاتی ہے اور حرکت میں آتی ہے۔وہ رحمت سے اور شفقت سے اپنے لئے قوت متحر کہ حاصل کرتی ہے اور ایک دانشوری وہ ہے جس کا مادہ غیظ ہے، غضب ہے ، انتقام ہے اور کوئی احساس کمتری ہے۔یہ دونوں قسم کے دانشور بالکل مختلف اثر معاشرے پر پیدا کیا کرتے ہیں اور جماعت کو میں نے نصیحت کی تھی کہ ہم میں جو دانشوروں کا ایک طبقہ منفی سوچ والا پیدا ہورہا ہے ان کو اپنی فکر کرنی چاہئے۔اگر انہوں نے اپنی فکر نہ کی تو ان کی اولادوں کی بھی ضمانت نہیں بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسا شخص خود بچ جائے لیکن اپنی اولا دوں کو ہلاک کر دے۔لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ (الانعام: ۱۵۲) میں یہ نصیحت ہے، یہ تنبیہ ہے جسے افسوس کہ بعض لوگ دانشور ہونے کے باوجود اس کو بھلا دیا کرتے ہیں۔تو دانشوری کی اصل تعریف ان کے اوپر صادق نہیں آتی۔دانشوری تو وہ ہے جو نتیجے کے اعتبار سے کسی کو بالآخر منفعت بخش دے۔ہر وہ