خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 751 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 751

خطبات طاہر جلدے 751 خطبه جمعه ۴ / نومبر ۱۹۸۸ء سے بعض دیہات پورے کے پورے احمدی ہیں اور بچے بڑے اکٹھے کر کے ہزار ہا کی تعداد میں ایک ایک گاؤں میں احمدی ہیں لیکن ان ضلعوں کا مجموعہ جو ہے وہ چند ہزار رتک پہنچ کر ٹھہر جاتا ہے۔تو گنجائش تو بے انتہا ابھی موجود ہے۔اس لئے اگر اس پہلو سے جماعتیں پھر ایک دفعہ کوشش کریں تو امید رکھتا ہوں کہ اس سال ہماری تعداد خدا کے فضل سے کافی بڑھ سکتی ہے۔جہاں تک سال رواں کا سال گزشتہ سے موازنہ ہے یہ پچھلے سال کی ساری وصولی ہے۔چار لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سو انیس (4,28,119) پاؤنڈ بنتی ہے۔جو ایک کروڑ چھتیس لاکھ نانوے ہزار آٹھ سو آٹھ (1,36,99,808) روپے ہے لیکن وعدہ تھا وہ چھ لاکھ انسٹھ ہزار کا تھا جس کا مطلب ہے کہ اگر وصولی پوری ہوتی تو دو کروڑ گیارہ لاکھ گیارہ ہزار چار سو چھپن (2,11,11,456) روپے ہوئی تھی۔چونکہ ابھی بہت سی جماعتوں کو رپورٹیں آنی باقی ہیں اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ چار لاکھ اٹھائیس ہزار کے مقابل پر عملاً وصولی زیادہ ہوئی ہوگی اور یہ میچ نہیں ہے کہ یہاں آکر وصولی ٹھہر گئی لیکن جن جماعتوں کی رپورٹیں آئی ہیں ان پر میں نے تفصیل سے نظر ڈالی ہے ان میں بھی ابھی کمی باقی ہے اور بعض جماعتیں جن سے توقع تھی کہ وہ اپنا وعدہ بہر حال پورا کریں گی مثلاً انگلستان کی جماعت، مثلاً امریکہ کی جماعت۔ان جماعتوں میں بھی ابھی کمی ہے۔تو ان کے لئے آج پیغام یہ ہے کہ اپنی گزشتہ کمی کو بھی پورا کرنے کی کوشش کریں۔معلوم ہوتا ہے تحریک جدید کا نظام چلانے والوں سے کچھ کوتاہی ہوئی ہے یا کوئی اور ایسی وجہ پیدا ہوئی ہے کہ جماعت بحیثیت جماعت اس طرف توجہ نہیں دے سکی۔یا درکھیں کہ جو وعدے کئے جاتے ہیں ان کو پورا کرنا ایک اخلاقی ذمہ داری ہے اور جہاں تک مومن کا تعلق ہے یہ عام اخلاقی ذمہ داری سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور جہاں تک خدا سے کئے جانے والے وعدوں کا تعلق ہے اس میں اور بھی زیادہ تقدس پیدا ہو جاتا ہے۔اس لئے سوچ کر وعدے کیا کریں۔ایک اندازہ لگا کر وعدہ کیا کریں اور پھر خدا تعالیٰ سے تو فیق مانگتے رہا کریں یعنی دعا کے ذریعے یہ توفیق مانگتے رہا کریں کہ آپ نے جو وعدہ کیا ہے کم سے کم اتنا پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اگر آپ یہ دعا کریں کہ اس وعدے کو بڑھا کر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے تو یہ بھی کوئی تعجب کی بات نہیں کہ یہ دعا آپ کے حق میں قبول ہو۔تو اپنے ارادے بلند رکھیں تا کہ کم سے کم جو وعدہ