خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 750 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 750

خطبات طاہر جلدے 750 خطبه جمعه ۴ رنومبر ۱۹۸۸ء لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ (البقره: ۲۸۲) ایک پہلو سے تو رسولوں میں بے شمار فرق ہے۔ان کے سب سے آخری مقام پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ خاتم النبیین فائز ہیں اور دوسری طرف خدا فرماتا ہے مومنوں کے دل کی آواز یہ ہے لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ کہ ہم خدا کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے۔وہی قبلہ نمائی کا مضمون ہے جو اس میں بیان فرمایا گیا ہے۔یہ مطلع کیا گیا ہے کہ پیغمبر خواہ ادنی ہو یا اعلیٰ ہو، افضل ہو یا کمتر ہو جب وہ خدا کے نام پر آواز بلند کرتا ہے تو مومن کے دل سے اس کے سوا کوئی آواز نہیں اٹھتی کہ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِم کیونکہ خدا کے رسول کا پیغام ہے خواہ رسول کیسی ہی حیثیت کا ہے۔ہم اس آواز میں قطعا کوئی فرق نہیں کریں گے ہر آواز پر لبیک کہیں گے۔تو یہ بھی ضمنا مجھے آپ کو سمجھانے کی ضرورت پیش آئی کیونکہ میں نے محسوس کیا ہے ہے کہ رفتہ رفتہ یہ رجحان پھر بڑھ رہا ہے اس کو میں دباتا ہوں پھر یہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے کہ خلیفہ وقت کی طرف سے آواز اٹھنے کے بعد جو خدا کی طرف سے یعنی کلام الہی پر بنی ہوا کرتی ہے اور فرمان محمد مصطفی ﷺ پرمبنی ہوا کرتی ہے اور ان کے دائرہ اختیار کے اندر رہتی ہے اس آواز کو آگے پہنچانے والے سارے اسی طرح سلوک کے مستحق ہیں جس طرح وہ شخص جس نے اس آواز کا آغاز کیا ہے آپ کے لئے اور اس میں آپ کو کوئی تفریق نہیں کرنی چاہئے۔تو بہر حال دوسرا پیغام آج کے نئے سال کے لئے میرا یہ ہے کہ تعداد بڑھانے کی طرف مزید توجہ کریں۔اس پہلو سے یہ ایک خوشی کی خبر ہے کہ جو سال اب ختم ہو رہا ہے اس میں ہماری تعداد یعنی تحریک جدید کے چندہ دہندگان کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔اس وقت میں معین طور پر نہیں کہہ سکتا کہ کتنی بڑھی ہے کیونکہ ایک لاکھ پانچ ہزار کی جو تعداد اس وقت میرے سامنے ہے اس میں بہت سے ممالک کی تعداد شامل نہیں ہے۔یعنی آج صبح تک جتنی بھی اطلاعات ملی ہیں یہ ان کا مجموعہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کے اللہ کے فضل سے اس وقت تک اس سے بہت زیادہ نہ صیح لیکن تقریباً پندرہ بیس فیصد اس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔تو اس پر مزید تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے اور گنجائش بہت ہے۔گنجائش کا تو یہ حال ہے کہ بعض ضلع کے ضلع جن کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں یعنی پاکستان میں جہاں بارہا دوروں کی توفیق ملی ہے ، گاؤں گاؤں جانے کا موقع ملا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل