خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 727 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 727

خطبات طاہر جلدے 727 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۸ء (المومنون : ۹۷) کہ دیکھو حسنات بدیوں کو دور کر دیا کرتے ہیں۔پھر فرمایا نیکیوں کے ذریعے مقابلہ کرو۔پھر فرمایا نیکیوں کے ذریعے بدیوں کا مقابلہ کرو۔حسنات سے کیا مراد ہے؟ یہ ایک بہت ہی حسین لفظ ہے اور بہت ہی وسیع معنی رکھتا ہے۔اس مضمون میں سب سے پہلے تو یہ بات داخل ہے کہ آپ بدیوں کا مقابلہ درشتی او رختی سے نہیں کر سکتے بلکہ حسن کے ساتھ کر سکتے ہیں۔آپ کے اندر کشش ہوگی تو بدیوں کا مقابلہ کرسکیں گے۔آپ کے مزاج میں اگر تیزی اور ختی ہوگی اور خشونت پائی جائے گی تو آپ در حقیقت مذکر بننے کے اہل نہیں رہتے۔اس لئے جب آپ ان معاشرتی بدیوں کو دیکھتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی نیت کو درست کریں اور اپنی نیت میں حسن پیدا کریں اور ان لوگوں کا درد محسوس کریں جو برائیوں کا شکار ہیں۔ان لوگوں کے خلاف اگر نفرت دل میں پیدا ہوتی ہے اس نفرت کو دبائیں اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔اپنا ذہن اپنے دماغ کے محدود دائرے سے نکال کر دوسرے کے دماغ کے دائرے میں داخل کرنے کی کوشش کریں اور سوچیں کہ وہ کیوں یہ کر رہا ہے کیا عوامل ہیں جس نے ان باتوں پر اس کو مجبور کر دیا ہے، پھر حکمت کے ساتھ رفتہ رفتہ حسن دے کر اس کی بدیوں کے ازالہ کی کوشش کریں۔یہ کیسے ہوسکتا ہے اس کی مثالیں میں آگے تفصیل سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔پہلی چیز جو میں بیان کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ جب آپ کسی چیز کو پیدا ہوتے دیکھتے ہیں تو لازم ہے کہ اس کے عوامل پر غور کریں کے کیوں ایسا ہو رہا ہے؟ ربوہ میں قائد خدام الاحمدیہ کے طور پر بھی رہا ہوں، مختلف جماعتی خدمتوں پر مامور رہا ہوں اور وقف جدید سے تعلق کی وجہ سے سارے پاکستان کے دیہات سے بھی اصلاحی رنگ میں میرا ایک تعلق رہا ہے۔اس لئے اپنے تجربہ کی روشنی میں میں بعض باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔کئی قسم کے لوگ مجھے ملیں ہیں اس کام کے دوران۔بعض لوگ ہیں وہ کہتے ہیں دیکھو جی ! یہاں آوارگی پھیل گئی ہے، لڑ کے اس طرح پھر رہے ہیں اور ان کی طبیعت میں بڑا غصہ اور اشتعال ہوتا ہے، کیا کر رہی ہے جماعت ، کیا حال ہو گیا ہے سب کا، یہ نسلیں تباہ ہوگئی ہیں اور انجمن میں کچھ نہیں ہورہا ، وکلاء کچھ نہیں کر رہے، ان کو بس اپنی چائے پینے سے کام ہے اور پتا ہی کچھ نہیں کہ یہاں کیا حال ہو گیا ہے۔اس قسم کے تبصرے بھی آپ کو سنائی دیتے ہیں۔بعض اس قسم کے لوگ ہیں اس کے برعکس جو برائیوں کو دیکھتے ہیں اور خاموشی سے گھر میں چلے جاتے ہیں اور گھر میں