خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 726
خطبات طاہر جلدے 726 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۸ء ہے۔اس لئے جس معاشرے میں نیتیں دنیا پرستی کی طرف مائل ہو جائیں وہیں سے خرابی کا آغاز شروع ہو جائے گا۔وہ بالآخر وہیں پہنچیں گے جہاں اس سے پہلے دنیا پرست لوگ پہنچتے رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے ( در تین صفحه : ۱۷) پس اگر رخ حضرت محمد مصطفی امیہ کی جانب رہے تو لازماً ہر قدم نیکی کی طرف اٹھے گا، برائیاں ہوتے ہوئے بھی اس سفر کے دوران برائیاں جھڑنی شروع ہو جائیں گی۔نیکیوں سے عاری ہوتے ہوئے بھی ہر منزل پر آپ اپنے دامن کو پہلے سے زیادہ نیکیوں سے مزین اور مرصع پائیں گے۔پس رخ کی طرف توجہ دینا بہت ہی اہم کام ہے۔ایسے لوگوں کی نیتیں درست کرنا اور مشورے اور محبت کے ذریعے اور راہنمائی کے ذریعے ان کو سمجھانا یہاں سے دراصل ہمارا جہاد شروع ہوتا ہے۔انتظار کرتے رہنا کہ جرم حد سے بڑھ کر ایک بھیانک شکل اختیار کرے پھر اس پر انسدادی کارروائیاں تو ہو نہیں سکتیں۔تعزیری کاروائیاں شروع کی جائیں یہ ہمارا کام نہیں ہے نہ ہمارا یہ مسلک ہے۔ہم نصیحت کرنے والوں کی جماعت ہیں اور نصیحت کرنے والی جماعت کو کچھ دوسروں پر فوقیت بھی حاصل ہوتی ہے کچھ اس کی کمزوریاں بھی ہوتی ہیں۔نصیحت ہر منزل پر یکساں اثر نہیں کیا کرتی۔نصیحت چونکہ زیادہ تر انسدادی کاروائی سے تعلق رکھتی ہے اس لئے بیماری ابھی آغاز میں ہو تو نصیحت کو اس کے اوپر بہت زیادہ رسوخ حاصل ہوتا ہے۔بہت زیادہ قوت حاصل ہوتی ہے اور جب بڑھ جاتی ہے تو جتنی بیماری بڑھتی ہے اتنی نصیحت نسبتا کمزور اثر دکھانے لگتی ہے۔پس بد ہو جانے والے لوگوں کو آپ نیکی کی طرف بڑھا ئیں گے تو بہت کم اثر پڑے گا لیکن وہ جو بدی کی طرف رخ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں ان کو اس وقت سمجھانا اور روک لینا یہ نسبتاً بہت آسان ہے۔اس لئے شروع سے ہی ان امور کی طرف توجہ ضروری ہے اور پھر اس طریق پر توجہ چاہئے جو طریق قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ (حود : ۱۱۵) پھر فرمایا ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ( حم السجدة : ۳۵) پھر فرمایا اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ *