خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 728
خطبات طاہر جلدے 728 خطبه جمعه ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء بیٹھ کر یہ باتیں کرتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہو رہا ہے، کوئی حال نہیں رہا اور لوگ گندے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔یہ دونوں قسم کے لوگ نصیحت کے لحاظ سے بریکار اور بالکل بے معنی ہیں۔سب سے پہلی بات اس ضمن میں سوچنے کے لائق یہ ہے کہ پہلے لوگوں کو بھی ان بیماروں سے تعلق کٹ گیا کیونکہ وہ نفرت کا شکار ہو گئے اور دوسری قسم کے لوگوں کا بھی ان بیماروں سے تعلق کٹ گیا کیونکہ وہ اس جدو جہد سے علیحدہ ہو گئے اور اپنے گھروں کے آرام خانوں میں وہ گویا کہ بے نیاز ہو کر بیٹھ گئے کہ وہاں بازاروں میں کیا ہو رہا ہے۔پھر ایسے تبصرے بھی آپ کو سنائی دیں گے کہ جی یہ لوگ وہاں بیٹھتے ہیں، وہاں بیٹھے ہیں، مجلسیں لگاتے ہیں اور ایسے تبصرے بھی سنائی دیں گے کہ ان کی مجلسیں تو ڑ دی جائیں ، ان کو ربوہ سے نکال دیا جائے۔ان کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے ، ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے حالانکہ ایسے تبصرے کرنے والے بسا اوقات متمول لوگ ہوتے ہیں۔ان کے گھروں میں ایسی آسائشیں میسر ہوتی ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں مجلسیں لگاتے ہیں ، راتوں کو دیر دیر تک بیٹھتے ہیں اور ان کے رشتہ دار وہاں اکٹھے ہوتے ہیں، چائے پی جاتی ہے، گیئیں ماری جاتی ہیں، ہر قسم کے تبصرے ہوتے ہیں۔ان کو وہ اپنی حالت دکھائی نہیں دے رہی ہوتی اور بازار میں کچھ غریب نو جوان دکھائی دے رہے ہوتے ہیں جو ان کے نزدیک نہایت آوارہ اور غیر ذمہ دار اور بے راہرو ہیں، ان کو کوئی حق نہیں کہ اکٹھے بیٹھیں کہیں۔غور کرنا چاہئے ،سوچنا چاہئے کہ آخر کیوں ایسا ہو رہا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے طبعی دلچسپیوں کے لئے کوئی نکاس کی راہ نظر نہیں آتی۔ہر انسان میں ایک جذبہ ہوتا ہے کسی طرح وہ تسکین حاصل کرے لذت حاصل کرے اپنی تھکاوٹ کو دور کرے۔اگر کسی کے گھر میں ایک کمرہ ہے ،غریب کے گھر میں اور وہیں اس کے ماں باپ اور بہن بھائی رہتے ہیں تو اپنے گھر میں بیچارہ کیسے مجلسیں لگا سکتا ہے۔وہ اپنے جیسے غریبوں کو لے کر باہر نکلے گا بازاروں میں کہیں برف والے کے پاس کھڑا ہو جائے گا، کہیں کباب کی دکان پر، کہیں کسی مٹھائی کی دکان پر ، پھر وہاں سے گزرتے دیکھے گا عورتوں کو لڑکیوں کو ، کچھ پردہ دار ہوں گی کچھ نے بے احتیاطی کی ہوگی پھر ان پر اس کی نظریں پڑیں گی اور اس کی جو تعلیم اور تربیت ہے جو گھروں میں عموماً شروع ہوتی ہے اس کا پس منظر بھی آپ دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اکثر ایسے نو جوانوں کے ماں باپ خود تربیت کے محتاج ہوتے ہیں اور معاشرے کی وجہ سے یا اقتصادی کمزوریوں کی وجہ سے یا تو انہوں نے تعلیم ہی حاصل