خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 648
خطبات طاہر جلدے 648 خطبه جمعه ۲۳ رستمبر ۱۹۸۸ء اب ہم یہاں سے کچھ عرصہ کے بعد آج تو نہیں لیکن جلد رخصت ہونے والے ہیں اور میں آپ سب کا ایک دفعہ پھر بہت شکریہ ادا کرتا ہوں، اپنی طرف سے بھی اہل قافلہ کی طرف سے بھی آپ سب نے بڑوں چھوٹوں مردوں اور خواتین نے اس سفر کو کامیاب بنانے میں بہت ہی محبت اور خلوص اور محنت کے ساتھ حصہ لیا ہے اور جس نیک نیتی کے ساتھ حصہ لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اُسے قبول بھی فرمایا ہے۔اس لئے اب آپ اس سلسلے کو یہاں تک نہ رہنے دیں بلکہ ہمیشہ جاری رکھیں۔میں یہ یقین رکھتا ہوں اور مجھے اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ آج اگر ماریشس کی جماعت احمد یہ اس شعور کے ساتھ بیدار ہو جائے جو شعور ان کو نصیب ہونا چاہئے۔اس شعور کے ساتھ اُن کو اپنی صلاحیتوں کا علم ہو جائے گا کہ ہم کیا لوگ ہیں تو اُن پر ویسی ہی مثال صادق آئے گی جیسا کہ ایک قصہ میں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شیر بچپن سے بھیڑوں کے گلے میں پالا گیا۔اور اُسے علم نہیں تھا کہ وہ کیا ہے۔چنانچہ اُس نے بھیٹروں والی ادائیں اختیار کر لیں۔اُسی طرح دوڑتا اور نکلتا اُسی طرح جیسے بھیڑ خوف سے راستہ بدل لیا کرتی ہے وہ بھی اپنا راستہ بدل لیا کرتا تھا۔یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آیا جبکہ واقعہ اس گلے پر ایک شیر نے حملہ کیا اور کہانی میں بتایا جاتا ہے کہ پہلے تو خوف کے مارے اُس کا وہی حال ہوا جو بھیٹروں کا ہوا کرتا ہے۔جب موت منہ کھولے سامنے آتی دکھائی دی تو اچانک اُس کی سوئی ہوئی شیر نی بیدار ہوگئی اور ایک عظیم الشان دل دہلادینی والی گرج کے ساتھ اُس کی ساری عظمتیں جاگ اٹھیں اور اس شان اور شوکت کے ساتھ وہ گر جا ہے کہ وہ حملہ آور شیر بھیڑوں کی طرح اُس کے آگے بھاگا ہے۔میں آپ میں جو خوبیاں دیکھ رہا ہوں جو اُس خوابیدہ شیر کی سی خوبیاں ہیں جسے علم نہیں تھا کہ وہ ایک شیر ہے۔آپ خدا تعالیٰ کے شیر ہیں۔خدا تعالیٰ کے شیروں کی طرح زندہ رہنا سیکھیں۔خدا آپ کے اندر وہ شعور بیدار کر دے کہ آپ کون لوگ ہیں اور خدا نے آپ کو کیسی کیسی صلاحتیں بخشی ہیں۔پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے چند صدیوں کی بات نہیں، چند دہاکوں کی بات نہیں چند سالوں میں سارے ماریشس کو اسلام اور احمدیت کے نور سے منور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین۔