خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 649
خطبات طاہر جلدے 649 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء فرعون کی لاش کا ملنا قرآن کریم کی عظیم الشان پیشگوئی او معجزہ ہے۔زمن موسیٰ کی تاریخ دہرائی جارہی ہے (خطبه جمعه فرموده ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ابھی دو دن پہلے میں مشرقی افریقہ کے دورے سے واپس آیا ہوں جہاں مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ چار مشرقی افریقہ کے ساحلی ممالک کے دورے کی توفیق ملی۔اور اس کے علاوہ واپسی پر دودن یا تین دن پیرس بھی ٹھہرا اور وہاں کی جماعتی معاملات میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی غور کا اور آئندہ کے لئے بہتری کے منصوبے بنانے کی بھی توفیق ملی۔شاید آپ یہ توقع رکھتے ہوں کہ اس جمعہ میں اس دورہ کے حالات بیان کروں گا لیکن میرا آج ایسا کوئی ارادہ نہیں۔اس دوران مجھے غالباً پانچ خطبے باہر دینے کی توفیق ملی ہے اور ساتھ کے ساتھ جو حالات میں وہاں دیکھتا رہا ہوں اُن کے متعلق میں تبصرہ انہی خطبات میں کرتا رہا ہوں۔کچھ مضامین ایسے ہیں جو وقتا فوقتا یاد آتے رہیں گے تو اُن کا تذکرہ بعد میں ہوتا رہے گا۔اس وقت میرا ارادہ یہ ہے کہ بفضلہ تعالیٰ دو ایسے نشانات کا ذکر کروں جو تاریخی لحاظ سے بہت پہلے کے ہیں۔ایک قریب کے زمانے میں پہلے کا نشان ہے اور ایک بہت بعید کے زمانے کا نشان ہے۔مگر ان دونوں کا تعلق جماعت احمدیہ کی تاریخ سے ہے۔اور ایک نشان تو ایسی نوعیت کا ہے جو تین زمانوں پر پھیلا پڑا ہے کیونکہ قرآن کریم ایسے نشانات کا بار بار تذکرہ فرماتا ہے اور اس بات کی نصیحت فرماتا ہے کہ ان نشانات کا دور چلتے رہنا چاہئے ان کا ورد ہوتے رہنا