خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 630 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 630

خطبات طاہر جلدے 630 خطبه جمعه ۶ ارستمبر ۱۹۸۸ء فرض ہے اور آپ کا یہ حق ہے کہ اس کام کو کریں اور اس لذت سے فیض یاب ہوں کیونکہ جولذت خدا کی راہ میں دعوت دے کر روحانی پھل حاصل کرنے اور ان کا مزہ لینے میں ہے ویسی لذت اس کے سوا آپ کو کہیں نہیں مل سکتی۔تبلیغ اور دعوت الی اللہ کے کام میں ایک بات پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔دعوت الی اللہ میں کامیابی اچھی صحت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔چونکہ ہم روحانی اصطلاحوں میں بات کر رہے ہیں اس لئے اچھی صحت سے مراد اچھی اخلاقی اور روحانی صحت ہے۔اس کے بغیر آپ کے دلائل، آپ کے منطقی داؤ پیچ کوئی کام نہیں دے سکتے۔اس لئے جو پہلے میں نے باتیں بیان کی ہیں وہ اسی لئے بیان کی تھیں کہ ان کی روشنی میں آپ کو دعوت الی اللہ کا پیغام دوں۔جب تک وہ امور جن کا میں نے ذکر کیا ہے ان کی طرف آپ توجہ نہیں کرتے اور ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتے اس وقت تک آپ کی دعوت الی اللہ کے کام میں برکت نہیں پڑ سکتی۔دعوت الی اللہ کے کام میں دلائل کی بھی ضرورت ہے اس میں کوئی شک نہیں۔منطقی طور پر انسان کو سمجھ بوجھ ہونی چاہئے کسی سوال کا جواب کیسے دینا ہے اور پھر علم کی بھی بہت ضرورت ہے۔بغیر علم کے خالی منطقی زبان کی چالا کی تو بن جائے گی لیکن کوئی مؤثر فائدہ نہیں دے سکتی لیکن اس کے باوجود یہ دو چیزیں کافی نہیں ہیں۔دعوت الی اللہ کی کامیابی کے لئے طاقت چاہئے۔جو بات کسی کو پہنچائی جاتی ہے اگر وہ کمزوری سے پہنچائی جائے تو اس کا اثر نہیں ہو گا۔اگر طاقت سے پہنچائی جائے تو اس کا اثر ہوگا اور روحانی دنیا میں طاقت نیکی سے پیدا ہوتی ہے۔نیکی آپ کے بدن کی جان ہے یعنی روحانی بدن کی جان ہے۔اگر آپ میں نیکی ہے تو آپ کے روحانی بدن میں بڑی قوت پیدا ہو جائے گی۔اگر آپ میں نیکی نہیں ہے تو خواہ کتنی زبان کی چالاکیوں سے کام لیں، خواہ کتنے ہی علم کے جو ہر دکھا ئیں آپ کی دعوت الی اللہ میں برکت نہیں پڑ سکتی۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی نا تواں کمزور مسلول، مدقوق یعنی بیمار آدمی کو جو سل کا مریض ہویائی بی کا مارا ہوا ہو بیچارا اس کو آپ کراٹے کی مشق کرا دیں اور بہت ماہر بنا دیں اس کو کرائے کا اور جوڈو کا کئی قسم کے جو مارشل آرٹس ہیں ان کو اس میں داؤ پیچ سکھا کر خوب ماہر بنا دیں۔پھر اس کو کسی دوسرے آدمی سے لڑا دیں جس کو کچھ نہ آتا ہو۔تو آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ کمزور مارا پیٹا آدمی جسے خود اپنی ذات میں کھڑا ہوا نہیں جاتا اس کے داؤ پیچ اس