خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 629
خطبات طاہر جلدے 629 خطبه جمعه ۶ ار تمبر ۱۹۸۸ء آرہا تھا اس میں ایک نمایاں اضافے کا رجحان پیدا ہو گیا۔وہ ممالک جہاں سینکڑوں احمدی ہوتے تھے وہاں ہزاروں شروع ہو گئے ، جہاں بیسیوں ہوتے تھے وہاں سینکڑوں شروع ہو گئے۔جہاں دو تین کی تعداد تھی وہاں بیسیوں شروع ہو گئے اور یہ رجحان ایسا ہے جو مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے لیکن ماریشس میں مجھے اس پہلو سے بھی کوئی تبدیلی نظر نہ آئی۔اس کے باوجود جب بھی میں ماریشن دوستوں سے ملتا رہا انگلستان میں آکر لوگ مجھے ملتے ہیں یا ویسے باہر کسی بعض دفعہ جماعتوں میں جرمنی وغیرہ میں دورہ کرتے ہوئے ملاقات ہو جاتی ہے۔میرا ابھی بھی یہ تاثر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو بنیادی طور پر وہ صفات عطا کی ہوئی ہیں کہ اگر آپ ان کو خدمت دین پر لگا دیں اور دعا سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں تو آپ کے اندر وہ مادہ ہے جو انقلابات پیدا کر سکتا ہے۔آپ لوگ اگر ا کٹھے ہو کر مستعد ہوکر ، حکمت کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کے بعد تبلیغ کا کام شروع کریں تو اتنا بھاری یہاں مواد موجود ہے جو سارانسانی طاقت کو مواد اگر استعمال ہو تو چند سالوں کے اندر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ماریشس میں ایک روحانی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔دعوت الی اللہ کا پروگرام جماعت کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو پاک تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہے اس سے ہم امید رکھتے ہیں کہ جو کام غلبہ اسلام کا ہمیں دور دکھائی دیتا تھا وہ تیزی کے ساتھ قریب آنا شروع ہو گیا ہے اور ہوتا چلا جائے گا۔مثال کے طور پر میں چونکہ افریقہ کی بات کر رہا ہوں۔افریقہ کے ممالک کا جو میں نے گزشتہ بیعتوں کا جائزہ لیا تو دعوت الی اللہ کے پروگرام کے جاری ہونے کے بعد جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں برکت پڑی ہے اور پرانی بیعتوں کے مقابل پر رفتار میں تیزی آئی ہے اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ چند سال پہلے سارے افریقہ کے ممالک میں جتنی بیعتیں سالانہ ہوا کرتی تھیں اب گزشتہ سال ایک افریقہ کے ملک میں اس سارے افریقہ کے ممالک کی بیعتوں کے مقابل پر دگنی بیعتیں ہو چکی ہیں اور یہ رجحان مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور کم و بیش افریقہ کے ہر ملک پر برابر اطلاق پاتا ہے۔تو وہ آواز جو خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ خلیفہ وقت کی طرف سے بلند ہو اس سے تعاون کرنے میں ہی برکت ہے۔اس کے ساتھ ہر رنگ میں مخلصانہ تعاون پیش کرنا اور اپنی تمام طاقتوں کو اس راہ میں لگا دینا یہی سچا ایمان ہے۔اس لئے آپ باقی دنیا کے ممالک سے پیچھے رہ رہے ہیں۔آپ کا یہ