خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 631 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 631

خطبات طاہر جلدے 631 خطبه جمعه ۶ ار ستمبر ۱۹۸۸ء کے کام آجائیں گے۔ایک صحت مند نوجوان جس کو کچھ بھی نہ آتا ہو ایسا شخص اس کے ایک مکے کی مار بھی نہیں ہے۔وہ چالاکیاں کرتا رہے گا اور وہ مضبوط آدمی اس کو ایک ہاتھ سے یا ایک لات سے اس کو ڈھیر کر سکتا ہے۔تو اس لئے داؤ پیچ کافی نہیں ہوا کرتے۔داؤ پیچ استعمال کرنے کے لئے طاقت بھی ضروری ہے اور روحانی دنیا میں طاقت ہمیشہ تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے۔تبلیغ کے میدان تقویٰ اتنا ضروری ہے کہ تقویٰ کے بغیر نہ آپ کا علم کام آئے گا نہ آپ کی منطق کام آئے گی اور کچھ بھی آپ کو حاصل نہیں ہو گا جب تک آپ کے اندر ، آپ کی بات کے اندر وزن پیدا نہ ہو اور وہ وزن تقوی ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ویسے بھی دنیا میں اب اس بات کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ دنیا روحانیت کی تلاش کر رہی ہے، دلائل کی تلاش نہیں کر رہی۔آج کی دنیا مغرب کی ہو یا مشرق کی ہو باوجود اس کے کہ بدیوں میں بھی آگے بڑھ رہی ہے، باوجود اس کے کہ مادہ پرستی میں بھی کافی بڑھتا ہوا رجحان دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے باوجود ایک عمومی بیزاری سی بھی دنیا میں پائی جاتی ہے۔اپنے حال پر لوگ خوش نہیں ہیں۔وہ لوگ جو ڈرگ کے مریض ہیں یا دنیا کے عام لذتوں میں اندھا دھند پیچھے بھاگ رہے ہیں ان کا رجحان آپ دیکھیں تو وہ مطمئن نہیں اور یہ بے اطمینانی کی کیفیت ترقی یافتہ ملکوں میں بہت زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔اس لئے ایک Undercurrent کے طور پر جیسے پانی کی سطح کے نیچے ایک روچل پڑے ایک روحانیت کی تلاش کی رو بھی چلی ہوئی ہے۔اسی لئے جو آج کل کے زمانے میں Cultus وغیرہ کرشمہ سازیاں یہ لوگوں کی نظر اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔نئی Cultus نئے قسم کے دعوے کہ ہم یہ کر سکتے ہیں وہ کر سکتے ہیں تمہیں روحانی لذت عطا کر سکتے ہیں کثرت سے لوگوں کو کھینچتے ہیں اور اچھے بھلے تعلیم یافتہ لوگ دنیا کے لحاظ سے خوب واقف اور ہوشیار لوگ بھی اس آرزو میں کہ شاید ہمیں کوئی روحانی مزہ میسر آجائے ان لوگوں پر بے شمار دولت بھی نچھاور کر دیتے ہیں۔چنانچہ ایسی Cultus پچھلے دس بیس سال میں وجود میں آئی ہیں جنہوں نے آنا فانا اربوں ارب ڈالر امریکہ سے کمالئے یا جرمنی سے بے شمار مارکس حاصل کر لئے ، بڑے بڑے محل تعمیر کر لئے۔بنیاد تو اس بات پر تھی کہ وہ روحانیت پیش کر رہے تھے۔جھوٹی روحانیت صحیح مگر نام روحانیت کا تھا اور روحانیت کی پیاس دنیا میں چونکہ پیدا ہو چکی ہے اس لئے لوگوں نے اس طرف توجہ کی۔