خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 628
خطبات طاہر جلدے 628 خطبه جمعه ۱۶ار تمبر ۱۹۸۸ء رو کی جاسکتی تھیں آج سے دس پندرہ ، ہیں، پچیس سال پہلے وہ آج بڑھ کر اتنی نمایاں حیثیت اختیار نہ کر جاتیں۔اس لئے یہاں کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ خاص تربیت کی محتاج ہے ان کو اسلامی اقدار کی طرف واپس لانے کے لئے ایک بہت بڑے جہاد کی ضرورت ہے۔یہ تمام باتیں جو میں کھول کھول کر آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کسی غصے کے نتیجے میں نہیں نہ آپ کو تکلیف دینا مقصود ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ پوری دنیا کی اصلاح سچائی کے بغیر نہیں ہوسکتی اور سچائی بھی وہ جو صاف ہو اور سیدھی ہو اور اس میں کوئی بدنیتی یعنی تکلیف دینے کی بدنیتی شامل نہ ہو، کوئی طعن وتشنیع نہ ہو۔خالصہ للہ انسان کسی درد کو محسوس کر کے صاف بات کہے تو اس سے اثر ہوتا ہے۔اس لئے یہاں مجلس میں آپ کی برائیاں کھولنا ہرگز مقصود نہیں لیکن کوئی تو ایسا ہونا چاہئے جو آپ کو بتائے اور آپ کو متنبہ کرے کہ یہ وہ بیماریاں ہیں جو اس جماعت میں پائی جاتی ہیں ان کی اصلاح ہمارا فرض ہے۔ساری جماعت کو ان کمزوریوں کے خلاف متحد ہو کر ایک جہاد کرنا چاہئے۔یہ طریق وہ ہے جو قرآن کریم کے نزدیک ہمیشہ اصلاح پیدا کرتا ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنی کمزوریاں چھپانی چاہئیں۔جہاں تک ذاتی کمزوریاں ہیں ان کو چھپانا اور خدا تعالیٰ سے ستاری طلب کرنا یہ کوئی بری بات نہیں لیکن جو کمزوریاں ایک عوام کی نظر میں آچکی ہوں ، جو سب کے علم میں آچکی ہوں ان کے متعلق بات نہ کرنا یہ اسلامی آداب نہیں۔ایسی کمزوریوں کے متعلق قرآن کریم کی دوسری آیات جو ہیں ان کے تابع عمل ہونا چاہئے۔تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران : 1) اس مضمون کی بہت سی آیات ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ جب معاشرے میں کچھ برائیاں پیدا ہوں تو کچھ لوگوں کو اپنی ذمہ داری مقرر کر لینی چاہئے کہ وہ بار بار لوگوں تک پہنچیں اور انہیں بری باتوں سے روکیں اور نیک باتوں کی تلقین کریں۔ایک اور بات جس کے متعلق مجھے پریشانی رہی ہے وہ یہ ہے کہ جب سے میں نے دعوت الی اللہ کی تحریک کی ہے کثرت کے ساتھ تمام دنیا کے ممالک میں جہاں جہاں جماعتیں قائم ہیں داعی الی اللہ بھی مستعد ہو گئے اور میری آواز کے اوپر لبیک کہتے ہوئے انہوں نے اپنی اپنی طاقت اپنی اپنی توفیق کے مطابق کام شروع کر دیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری بیعتوں کا جو سالہا سال سے گراف بنا چلا