خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 627
خطبات طاہر جلدے 627 خطبه جمعه ۶ارستمبر ۱۹۸۸ء گرانا اور اس طرح بعض مبلغین کا زیادہ منظور نظر بننا اور ان کی آنکھوں میں زیادہ مخلص بننا۔یہ بیماری بھی معلوم ہوتا ہے مری نہیں۔چنانچہ کچھ عرصہ پہلے میرے سامنے ایسی تکلیف دہ باتیں آئیں کہ جن سے پتا چلتا تھا کہ جماعت بجائے اس کے کہ مبلغین کے وجود سے پورا استفادہ کرے اور اگر مبلغ میں کسی میں کمزوری دیکھے تو جو مناسب طریق ہے اس کو اختیار کرتے ہوئے خلیفہ وقت کے سامنے وہ باتیں لائے۔آپس میں اس طرح گروہوں میں، پوری جماعت تو میں نہیں کہ سکتا مگر کچھ لوگ ایسے ضرور تھے جو گروہوں میں بٹے ہوئے نظر آرہے تھے اور بعض ایک مبلغ کے حق میں بعض دوسرے مبلغ کے حق میں اور ایسی طرز اختیار کر لی تھی کہ اگر میں سختی سے دخل نہ دیتا تو جماعت فتنے کا شکار ہوسکتی تھی۔ایک اور بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ رشتے ناطے، بیاہ شادی وغیرہ کے سلسلے میں یہاں بہت کم نظم وضبط نظر آیا اور معلوم ہوتا ہے ایک لمبے عرصے سے اس بات کی عادت ہی نہیں ڈالی گئی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق جو نظام جاری فرمایا ہے اس کی پابندی کرنی چاہئے اسی میں برکت ہے۔جب میں نے جائزہ لیا کہ کیوں ایسا ہورہا ہے تو معلوم ہوا کہ ماریشس کی جماعت کے نوجوان ارد گرد کے گندے ماحول سے کسی حد تک متاثر ہیں اور ان کے اندر جو اسلامی معاشرے کی بنیادی صفات ہونی چاہئیں ان میں کچھ کمزوری پائی جاتی ہے۔بے راہروی، بے تکلفی سے بے پردگی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جلنا اور وہ جو مغربی معاشرے نے زہر پیدا کئے ہیں ہمارے سوسائٹی میں ان کے آثار مجھے وہاں بھی نظر آنا شروع ہوئے۔اس لئے میں نے محسوس کیا کہ معلوم ہوتا ہے مبلغین نے کمزوری محسوس کی ہے۔وہ یہ سمجھتے رہے کہ یہ جماعت ان معاملات میں ایسی روش پر چلی ہوئی ہے کہ اگر ہم نے سختی سے روکنے کی کوشش کی تو باغیانہ رویہ اختیار کیا جائے گا، ہماری بات نہیں مانی جائے گی اور اگر کوئی ایسے دھما کے ہوئے ، کوئی ایسے واقعات ابھر کر سامنے آئے تو مرکز پر شاید ہمارا بھی برا اثر پڑے کہ ہمارے ہوتے ہوئے یہاں کیا ہو رہا ہے تو انہوں نے دراصل حالات سے ایک ایسا سمجھوتہ کیا جس کی ان کو اجازت نہیں تھی۔حالات سے ایک ایسا سمجھوتہ کیا جو اسلام سے بے وفائی کے مترادف بنتا ہے۔اگر میرا یہ تاثر درست ہے تو ان مبلغین کو، ان منتظمین کو استغفار کرنی چاہئے کیونکہ اس کے نتیجے میں جو برائیاں پہلے