خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 620
خطبات طاہر جلدے 620 خطبه جمعه ۹ ستمبر ۱۹۸۸ء تعلیم حاصل کریں اور واپس آکر پھر اپنی قوم کی اور جماعت کی خدمت کریں۔دوسری صورت یہ ہے کہ یہاں ہومیو پیتھک ڈسپنسریاں قائم کی جائیں اور ہومیو پیتھک علاج چونکہ بہت ہی سنتا ہے۔اس لیے یہ ممکن ہے کہ بہت جلدی تمام احمدی جماعتوں میں یا بعض دوسرے ایسے علاقوں میں جو غربت کی وجہ سے مہنگا علاج نہ کروا سکتے ہوں ہم ہومیو پیتھک طبیبوں کا جال پھیلا دیں۔ہومیو پیتھک علاج عموماً افریقہ کے ممالک میں معروف نہیں اور افریقہ کی کوئی ایک بھی حکومت نہیں جو ہو میو پیتھک علاج کو تسلیم کرتی ہو۔اس پہلو سے کچھ قانونی دقتیں ہماری راہ میں حائل ہوسکتی ہیں مگر اُمید ہے انشاء اللہ تعالیٰ وہ بھی دور ہو جائیں گی۔جب میری سیرالیون کے پریذیڈنٹ صاحب سے ملاقات ہوئی تو اُن کو بھی میں نے یہ مشورہ دیا اور انہوں نے بڑی سنجیدگی اور ہمدردی سے اس مشورے کو سُنا۔مزید گفت و شنید ہوگی انشاء اللہ اور ہم اُمید رکھتے ہیں کہ سیرالیون کی حکومت اسے تسلیم کر کے اس سے فائدہ اُٹھائے گی۔ابھی حال ہی میں تین دن پہلے میں یوگنڈا میں تھا۔یوگنڈا کے صحت کے وزیر اور یوگنڈا کے تعلیم کے وزیر سے بھی میری اس معاملے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔اگر چہ اُن کو اس سے پہلے کچھ بھی علم نہیں تھا کہ ہومیو پیتھک کیا چیز ہے لیکن جب میں نے انہیں تفصیل سے سمجھایا تو اُن لوگوں میں نمایاں دلچسپی کے آثار دیکھے۔اس لیے میں اُمید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ یہاں بھی اگر حکومت سے گفت و شنید کی گئی تو وہ جماعت احمدیہ کو اس میدان میں خدمت کی اجازت دے دیں گے۔یوگنڈا کے وزیر تعلیم اور جماعت سے میں نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ میں بہت جلد وہاں ایک ہومیو پیتھک سکول کا اجراء کروں گا انشاء اللہ۔اس غرض سے تمام دنیا میں جو احمدی ہو میو پیتھک کی با قاعدہ سند رکھتے ہوں اور تعلیم یافتہ ہوں اُن سے میں اپیل کرتا ہوں کہ اگر وہ اپنے نام خدمت دین کے لیے پیش کرنا چاہیں تو ایک سال ، دو سال یا تین سال ، کوشش کریں کہ تین سال کے لیے اپنے آپ کو ضرور وقف کریں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ صرف یوگنڈا ہی میں نہیں ، تنزانیہ میں بھی ایک ہومیو پیتھک کالج یا سکول کھولنا چاہئے۔اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کے بہت سے نوجوان جو ویسے بے کار ہیں۔اُن کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک ذریعہ معاش بھی میسر آئے گا اور وہ آزادانہ اپنے لیے ایک لائحہ عمل تلاش کر سکیں گے۔یعنی جہاں چاہیں رہیں اُن کے لیے کوئی پابندی نہیں رہے گی۔جس علاقے میں جانا چاہیں خدمت دین بھی کریں اور اپنی روزی بھی خود کمائیں اور ملک کو ضرورت اتنی ہے یہاں