خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 619 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 619

خطبات طاہر جلدے 619 خطبه جمعه ۹ رستمبر ۱۹۸۸ء معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ایک بیدار اور پر خلوص جماعت ہے جو اپنی پوری ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی محبت میں خدمت دین میں مصروف ہے۔الا ماشاء اللہ چند بیعتیں کہیں کہیں سے آجایا کرتی تھیں اور چند اچھی خبریں بھی مل جاتی تھیں۔لیکن یہ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ سارے ملک میں بیداری کا احساس ہے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں سمجھتا ہوں کہ نمایاں فرق پڑ رہا ہے اور ابھی اور بہت گنجائش موجود ہے۔اس رفتار سے اگر آپ اُٹھتے رہے، بیدار ہوتے رہے اور نیک کاموں میں آگے بڑھتے رہے تو میں اُمید رکھتا ہوں کہ بہت جلد انشاء اللہ اس ملک میں عظیم الشان تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔جماعت احمد یہ تنزانیہ کے لیے بہت سے نئے منصوبوں کی ضرورت ہے۔ضرورت ہے کہ یہاں کثرت کے ساتھ سکول پھیلائے جائیں خواہ وہ چھوٹے درجے کے ہی ہوں اور ضرورت ہے کہ یہاں کثرت کے ساتھ ہسپتالوں کا انتظام کیا جائے خواہ وہ چھوٹے چھوٹے شفاخانے ہی کیوں نہ ہوں۔اس ضمن میں انشاء اللہ تعالیٰ بخوبی منصوبے تیار کیے جائیں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ جہاں جہاں جماعتوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیداری پائی جاتی ہے۔اُن کا حق ہے کہ اُن کی ہر طرح مدد کی جائے۔اس لیے خصوصیت کے ساتھ اُن جماعتوں اور اُن علاقوں کو اولیت دی جائے گی جہاں بیداری کے آثار نمایاں ہیں اور عنقریب انشاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ یہاں جماعت کی طرف سے نیک کاموں کے کئی منصوبے بروئے کار لائیں جائیں گے۔جہاں تک شفا خانوں کا تعلق ہے اُس میں میرے ذہن میں دو پروگرام ہیں۔شفا خانوں میں جہاں تک ایسے قابل ڈاکٹروں کا تعلق ہے جو سرجری بھی کر سکتے ہوں۔آپریشن کا کام کر سکتے ہوں۔اُس میں ہمارے ذرائع کچھ محدود ہیں اور جب تک ماہر سرجنز بیرونی دنیا سے اپنے آپ کو وقف نہ کریں اُس وقت تک افریقہ کی تمام ذمہ داریاں ادا نہیں ہو سکتیں۔اس لیے دوسری صورت یہ ہے کہ وہ احمدی نوجوان جو ذہین ہوں اور سائنس کی تعلیم پارہے ہوں اگر وہ ڈاکٹر بننا چاہیں اور اُن کے مالی ذرائع اجازت نہ دیں تو ہم ایسے تمام احمدی نوجوانوں کو جو اپنی زندگی خدمت دین کے لیے پیش کرنا چاہتے ہوں اُن کو انشاء اللہ اعلی طبی تعلیم حاصل کرنے میں مدد دیں گے۔اس طرح افریقہ کے مختلف ملکوں میں مقامی احمدی واقف زندگی دوست ایسے پیدا ہو جائیں گے جو یہاں یا باہر جا کر دوسرے ملکوں میں اعلی طبی