خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 618 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 618

خطبات طاہر جلدے 618 خطبه جمعه ۹ر ستمبر ۱۹۸۸ء نسبت تھی اور بھی کئی نسبتیں تھیں۔وہ اس ملک کے ایک ہونہار فرزند تھے جو بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کر رہے تھے اور تمام ملک کی محبت اور اُمید کی نظریں اُن پر پڑتی تھیں بہر حال عمر نے وفا نہ کی اور چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو گئے لیکن اتنی چھوٹی عمر میں اتنا بڑا ، وسیع اور نیک نام پیدا کرنا یہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص ، سعادت عطا فرمائی تھی۔اس لیے اس وطن میں آنا میرے لیے خصوصیت کے ساتھ ایک دل کی تسکین کا موجب ہے اور ساتھ غم کا بھی کیونکہ اگر ان کی زندگی میں یہاں آنے کی توفیق ملتی تو اور بھی زیادہ لطف رہتا۔آج جو اذان آپ نے سنی ہے جمعہ سے پہلے یہ انہی کے ایک ہونہار فرزند بکری عبیدی صاحب نے دی تھی جو واقف زندگی ہیں اور انشاء اللہ عنقریب جامعہ سے فارغ ہو کر اُن تمام نیکیوں کی علمبر داری کا کام۔کریں گے اس وطن میں آکر جو ان کے والد نے کی تھیں اور جن کے وہ ہمیشہ علمبر دار ہے۔دوسری خوشی کی خاص وجہ یہ ہے کہ کل جب میں آپ کے ساتھ مجلس میں بیٹھا تو میں نے اندازہ لگایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میں یہاں کی جماعت میں خصوصیت کے ساتھ اخلاص پایا جاتا ہے اور دین کی محبت ہے اور دین کے بارے میں وہ تدبر اور فکر کرتے رہتے ہیں۔بہت سی دور دور کی جماعتوں کے نمائندے یہاں تشریف لائے ہوئے تھے۔کوئی ہزار میل سے، کوئی آٹھ سو میل سے، کوئی سات سو میل سے یہ ایک وسیع ملک ہے جہاں جماعتیں بہت دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں اور ملک کے اقتصادی حالات اور مواصلاتی حالات ایسے ہیں کہ جس کے نتیجے میں سفر میں بہت ہی صعوبتیں ہیں اور مالی لحاظ سے دقتیں ہیں۔بہت زیادہ خرچ کرنے کی عموماً دوستوں میں استطاعت نہیں۔اس کے باوجود نہایت ہی تکلیف دہ سفر کو اختیار کرنا اور پھر اتنا لمبا سفر جس میں بہت زیادہ خرچ بھی کرنا پڑا۔یہ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک غیر معمولی جماعت سے محبت نہ ہو اُس وقت تک یہ توفیق نہیں مل سکتی۔کوئی حصہ دور کا ایسا نہیں ہے جہاں سے دوست یہاں تشریف نہیں لائے ہوئے تھے اور ابھی بہت سے ایسے ہیں جن سے تعارف نہیں ہوسکا۔آج شام کو جب ہم اکٹھے بیٹھیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ اُن سے بھی مزید تعارف ہوگا۔گزشتہ چند سال سے میں یہ جائزہ لیتارہا ہوں اور یہ بتاتے ہوئے مجھے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ مسلسل آپ کی جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیداری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور جماعتوں میں نشو و نما پہلے سے بڑھتی چلی جارہی ہے۔گزشتہ چند سال سے پہلے ایک عرصہ ضرور ایسا گزرا ہے جس میں آپ نے کچھ آرام کیا ، کچھ غفلت کی ، کچھ نیند کے مزے لئے۔بہر حال بالعموم یوں